اسلام آباد (ڈیلی آوازٹائمز) ڈی جی آئی ایس پی آر لفٹیننٹ جنرل احمد شریف راحیل نے کہا ہے کہ ہم ہارڈ سٹیٹ نہیں ہیں، دہشتگردوں سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں، دہشتگرد ہتھیار ڈالیں یا ہم انھیں ختم کر دیں گے، ریاست سے وفاداری ہر شہر ی کی ذمہ داری ہے، پاکستان ہی ہماری پہلی اور آخری پہچان ہے۔ دہشتگردی بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔ افغان طالبا ن رجیم دہشتگردی کو بطور کاروبا ر استعمال کر رہی ہے۔ محسن نقوی کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا ،پاکستان کی سیکیورٹی اور خوشحالی کے لئے گڈ گورننس نا گزیر ہے۔ پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا وزیرد اخلہ محسن نقوی کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا وہ انکا ذاتی بیان ہے،تاہم نئے صوبے بننے چاہئیں اس پر عوام کی رائے ضرور لی جائے۔ پاکستان کی سلامتی اور خو شحالی کے لئے گڈ گورننس ناگزیر ہے۔ ہمیں گورننس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشتگردی کے خلاف کئے جانے والے آپریشنز کی تفصیلات بتاتے ہوے کہا پانچ سال کے لے دوران دہشتگردی کے خاتمے کے لئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کئے گئے۔ انہوں نے کہا مجموعی طور پر چالیس ہزار تین سو اڑتالیس انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کئے گئے۔ دو ہزار چوراسی دہشتگردوں جہنم واصل کیا گیا ۔ بلوچستان میں اکتیس ہزار اسی اور کے پی کے میں سات ہزار ایک سو 77 جبکہ دیگر علاقوں میں دو ہزار اکانوے آ پریشنز کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال اب تک دہشتگردی کے باعث مجموعی طور پر 819 پاکستانی شہید ہوئے، جن میں پاک فوج کے 303 جوان، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 194 اہلکار جبکہ 322 عام شہری شامل ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک بھر میں دہشتگردی کے 3 ہزار 145 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ایک ہزار 971 خیبرپختونخوا، ایک ہزار 148 بلوچستان جبکہ 26 واقعات ملک کے دیگر حصوں میں پیش آئے۔انہوں نے دہشتگردی کے اعداد و شمار کا گزشتہ سال سے تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2025 میں مجموعی طور پر 2 ہزار 597 دہشتگرد مارے گئے تھے، جبکہ رواں سال ابھی تقریباً نصف عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک 2 ہزار 84 دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جو دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا دوہزار چھبیس میں بن دھماکوں کے اٹھائیس واقعات ہوے جن میں بیشتر حملہ آور افغانی تھے۔ ہر روز دس دہشتگرد مارے گئے۔ شہدا کی نسبت مارے گئے دہشتگردوں کا تناسب دو اعشاریہ پانچ فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوال بجا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ کیوں دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف دباؤ اور آپریشنز میں شدت پیدا کی ہے۔ ہوئے، انہوں نے کہا جب دہشتگردوں کی براہِ راست حکمت عملی ناکام ہوئی تو انہوں نے افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام علاقوں سے اپنی سرگرمیوں اور معاونت کا دائرہ بڑھا لیا۔ انہوں نے کہا ریاست پا کستان کا موقف بالکل واضح ہے کہ دہشتگردوں سے اب کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انکے ساتھ بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں دہشتگرد ہتھیار ڈالیں یا ہم ان مار ڈالیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں اضافے کی وجوہات اور ریاستی حکمت عملی سے بھی آگاہ کیا جائے گا، کیونکہ یہ اعداد و شمار یقیناً پوری قوم کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا بلو چستان کے حوالے سے جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈا اور مخصوص بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔ انہوں نے کہا نے پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جہاں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہے اور تمام ریاستی معاملات آئین و قانون کے مطابق چلائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقے پاکستان کو ایک سخت گیر ریاست (ہارڈ اسٹیٹ) قرار دے کر اس کا منفی مفہوم پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسی ریاست میں قانون کی بالادستی، مساوات اور ریاستی رٹ قائم ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب آئین اور قانون کا یکساں اطلاق ہو، کسی کے لیے خصوصی رعایت نہ ہو اور عام و خاص سب قانون کے سامنے برابر ہوں، تو یہی ایک مضبوط ریاست کی بنیاد بنتی ہے۔ ایسی ریاست میں سکیورٹی، استحکام اور نظم و ضبط قائم ہوتا ہے اور بحران جنم نہیں لیتے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے حقائق کو مسخ کرنے کی کوششوں کا مقصد ریاستی اقدامات پر سوال اٹھانا ہے، تاہم پاکستان آئین، قانون اور ریاستی رٹ کے مطابق اپنے معاملات چلانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا ہارڈ سٹیٹ وہ ہوتی ہے جہاں آئین و قانون کی عملداری ہوتی ہے۔ آئین و قانون کے مطابق معاملات چلائیں گے تو یہ ہارڈ سٹیٹ ہو گی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ہر شہری کو اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے سے پہلے اپنی آئینی ذمہ داریوں اور فرائض کا احساس کرنا ہوگا






