امریکی سیزر ایکٹ کے خاتمے سے شام کی عالمی مالی نظام میں واپسی کی راہ ہموار

دمشق(آآوازٹائمز)شام کے مرکزی بینک کے گورنر نے کہا ہے کہ امریکی سیزر ایکٹ کے خاتمے سے ایک بڑی قانونی رکاوٹ دور ہو جائے گی، جو طویل عرصے سے شام کے عالمی مالیاتی نظام میں انضمام کی راہ میں حائل تھی۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس نے معزول صدر بشار الاسد کے دور میں شام پر عائد کی گئی پابندیوں کو مستقل طور پر ختم کر دیا ہے، جس سے جنگ سے تباہ حال ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔مرکزی بینک کے گورنر عبدالقادر حسریہ نے کہا کہ شام کا آغاز ممکنہ طور پر کم کریڈٹ ریٹنگ سے ہوگا، جو موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر ایک فطری مرحلہ ہے۔ ان کے مطابق سیزر ایکٹ کے خاتمے سے شام کو خودمختار کریڈٹ ریٹنگ حاصل کرنے کے اہم مواقع میسر آئیں گے، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ شمولیت میں مدد ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں کے خاتمے سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے کی توقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل دو مرتبہ سیزر پابندیوں کے نفاذ کو معطل کر چکے تھے، تاہم شام کے صدر احمد الشراع نے پابندیوں کے مستقل خاتمے پر زور دیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ جب تک یہ پابندیاں قانونی طور پر برقرار رہیں گی، دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں قانونی خطرات کے خدشے کے باعث کاروباری ادارے سرمایہ کاری سے گریز کریں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں