بارڈر بندش نے ہزاروں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے کر دیئے، عوام نے سرحدی پوائنٹس فوری کھولنے کا مطالبہ کر دیا

چاغی(آوازٹائمز)چاغی چاغی میں پٹرول کی قلت مانگ میں اضافہ قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔تفصیلات کے مطابق پاک ایران سرحدی ضلع چاغی اس وقت شدید فیول بحران کا شکار ہے۔ ضلع بھر میں پٹرول کی قلت اور مانگ میں غیر معمولی اضافے کے باعث فی لیٹر پٹرول کی قیمت 260 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ذرائع کے مطابق چونکہ ضلع چاغی ایک سرحدی علاقہ ہے اور یہاں کے لوگوں کا روزگار زیادہ تر پاک ایران بارڈر سے وابستہ ہے، اس لیے گزشتہ سات ماہ سے سرحد پر سخت پابندیوں کے باعث ہر قسم کی آمد و رفت معطل ہے۔ وہ تمام پوائنٹس جہاں مقامی لوگ روزگار کماتے تھے، بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے ہو چکے ہیں اور عوام شدید معاشی پریشانی کا شکار ہیں۔ کئی گھروں میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے۔دوسری جانب نہ صرف چاغی بلکہ پورے رخشان ڈویژن میں پاکستانی فیول کی عدم فراہمی کے باعث صدیوں سے استعمال ہونے والا ایرانی فیول کی قلت پیدا ہوچکی ہے۔ایرانی پٹرول کی عدم دستیابی سے شہر کے زیادہ تر منی پمپ بند ہو چکے ہیں۔ چند کھلے منی پمپوں پر پٹرول 260 روپے فی لیٹر تک فروخت ہو رہا ہے۔تاجر برادری اور عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ خدارا چاغی کے عوام پر رحم کیا جائے اور پاک ایران بارڈر پوائنٹس کو فوری طور پر کھول دیا جائے۔ پٹرول کی قلت کے باعث دیگر ضروری اشیا بھی مہنگی ہو چکی ہیں اور عوام اس وقت شدید اذیت اور مشکلات میں مبتلا ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں