کوئٹہ(آوازٹائمز/انعام اللہ اچکزئی) انسپکٹرجنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر نے انکشاف کیا ہے کہ صوبے میں دہشتگرد حملوں کے خدشات بدستور موجود ہیں اور حالیہ کشیدگی کے بعد سیکیورٹی خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشتگردوں کی سرگرمیاں رپورٹ ہو رہی ہیں جن سے نمٹنے کے لیے تمام سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے:نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے آئی جی محمد طاہر نے کہا کہ افغانستان سے بین الاقوامی فورسز کے انخلا کے بعد دہشتگرد عناصر نے بلوچستان کو اپنا مرکز بنانے کی کوشش کی، تاہم پولیس، سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس اداروں کی مشترکہ کارروائیوں کے نتیجے میں 99 فیصد دہشتگرد حملے ناکام بنائے گئے۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اب ہائبرڈ وار فیئر کی شکل اختیار کرچکی ہے، جس میں دشمن ملک کے اندرونی نظام، معیشت اور امن و امان کو غیر روایتی حربوں سے نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔آئی جی بلوچستان نے کہا کہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے فیصلے سے انسدادِ دہشتگردی کی کارروائیوں میں بہتری آئے گی اور صوبے میں امن و استحکام کو مزید تقویت ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ کانٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی)دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے موثر کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ پولیس فورس جدید ٹیکنالوجی، خفیہ معلومات اور تربیت کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن کردار ادا کر رہی ہے عوام سے اپیل ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فورا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں تاکہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔






