بلوچستان کو ترقی کے نام پر صرف وعدے ملے، عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جے یو آئی نظریاتی

کوئٹہ(ڈیلی آوازٹائمز)جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے قائمقام امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی کنوینر مفتی شفیع الدین، مرکزی نائب امیر مولانا عبدالروف اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ساتھ استحصالی رویہ اختیار کیا گیا، جس کے باعث صوبہ آج بھی شدید مسائل کا شکار ہے۔اپنے مشترکہ بیان میں رہنماں نے کہا کہ گوادر پر باڑ، بارڈرز کی بندش، معدنی وسائل سے عوام کو محروم رکھنا اور نئی صنعتوں کے قیام میں رکاوٹیں بلوچستان کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں سے نہ گوادر کے مقامی لوگ اور نہ ہی بلوچستان کی عام آبادی مستفید ہو سکی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اکیسویں صدی میں بھی صحت، تعلیم، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ ترقی کے دعوے سنتے سنتے عوام کے کان پک چکے ہیں۔جے یو آئی نظریاتی رہنماں کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومتوں کی پالیسیوں نے بلوچستان کو غربت، بے روزگاری اور معاشی مشکلات سے دوچار کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل سے عوام کو فائدہ نہیں دیا جا رہا، جبکہ معاشی سرگرمیوں پر بھی مختلف پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو سی پیک سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں میں مسلسل نظر انداز کیا گیا اور صوبے کے عوام کو صرف وعدوں کے ذریعے مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بدامنی، معاشی بحران اور بڑھتے ہوئے مسائل کے خاتمے کے لیے بلوچستان کو حقیقی ترقی، بااختیار معاشی پالیسیوں اور عوام دوست اقدامات کی ضرورت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں