بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی، ڈپٹی کمشنر حب

حب(ڈیلی آواز ٹائمز/نیاز اللہ سمالانی) ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان مندوخیل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع حب میں بچوں کے حقوق کے تحفظ، چائلڈ لیبر کے خاتمے، اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لانے، کم عمری کی شادیوں کی روک تھام، بچوں سے بدسلوکی، غذائی قلت، منشیات اور دیگر سماجی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ سوشل ویلفیئر، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، میونسپل کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران و نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بچوں کو درپیش مسائل، چائلڈ پروٹیکشن کے موجودہ نظام اور مختلف اداروں کے مابین رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جمعہ داد خان مندوخیل نے کہا ضلع حب میں چائلڈ لیبر، جسمانی و ذہنی تشدد، جنسی زیادتی، منشیات، کم عمری کی شادی، غذائی قلت اور اسکول سے باہر بچوں جیسے مسائل کے تدارک کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ڈپٹی کمشنر نے واضح ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی والدین یا سرپرست کی جانب سے بچے کے ساتھ تشدد، جنسی زیادتی، استحصال، اغوا، جبری مشقت یا کسی بھی سنگین جرم کی شکایت رپورٹ کی جائے تو متعلقہ پولیس فوری طور پر ایف آئی آر درج کرے اور بلا تاخیر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ بچوں سے متعلق مقدمات میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں ضلع حب کے مختلف علاقوں میں بچوں کے محنت مزدوری کرنے کے معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے بتایا کہ بعض بچے ورکشاپس، گیراجوں، صنعتی و تجارتی مراکز، ماہی گیری سے متعلق مقامات اور دیگر شعبوں میں کام کرتے ہیں، جبکہ بعض یتیم اور مستحق بچے معاشی مشکلات کے باعث تعلیم کے بجائے محنت مزدوری پر مجبور ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی اور سروے کا نظام وضع کیا جائے، محنت مزدوری میں مصروف بچوں کی نشاندہی کی جائے اور انہیں تعلیمی نظام میں واپس لانے کے لیے والدین اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ ضلع حب میں آؤٹ آف اسکول چلڈرن کی نشاندہی کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں اور اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی اداروں میں لانے کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے۔اجلاس میں تعلیمی اداروں میں بچوں پر جسمانی تشدد، بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول، کم عمری کی شادیوں کی روک تھام، بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت اور غذائی قلت سمیت دیگر امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین اور دستیاب سہولیات کے بارے میں سوشل میڈیا کے ذریعے بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ والدین، بچوں، اساتذہ اور عام شہریوں کو معلوم ہو کہ بچوں سے متعلق کسی بھی زیادتی یا استحصال کی صورت میں کہاں اور کیسے شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کے حقوق، چائلڈ لیبر کی روک تھام، بچوں سے تشدد اور جنسی زیادتی کے خلاف آگاہی، کم عمری کی شادیوں کے نقصانات، منشیات سے بچاؤ اور بچوں کی تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے باقاعدگی سے آگاہی مواد جاری کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ ضلع حب میں چائلڈ پروٹیکشن کے حوالے سے ایک جامع آگاہی واک اور ریلی کا انعقاد کیا جائے، جس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ سوشل ویلفیئر، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، طلبہ، اساتذہ، سول سوسائٹی، تاجر برادری، صنعتکاروں اور دیگر متعلقہ طبقات کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ واک اور ریلی کا مقصد عوام میں بچوں کے حقوق، چائلڈ لیبر کے خاتمے، بچوں سے بدسلوکی و تشدد کی روک تھام، کم عمری کی شادیوں کے نقصانات اور بچوں کے تحفظ سے متعلق دستیاب شکایتی نظام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آگاہی واک اور ریلی کے دوران بینرز، پلے کارڈز اور دیگر تشہیری مواد کے ذریعے چائلڈ پروٹیکشن کے حوالے سے مؤثر پیغامات عوام تک پہنچائے جائیں، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی اس مہم کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے تاکہ معاشرے کے ہر طبقے کو بچوں کے تحفظ کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے میونسپل کارپوریشن حب کو بھی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں، محکمہ سوشل ویلفیئر، محکمہ تعلیم اور چائلڈ پروٹیکشن سے متعلق حکام کے ساتھ مل کر شہر کے اہم مقامات پر موجود بل بورڈز اور تشہیری مقامات کو بچوں کے تحفظ سے متعلق آگاہی مہم کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بل بورڈز پر بچوں کے حقوق، چائلڈ لیبر کے خاتمے، بچوں سے بدسلوکی کے خلاف آواز اٹھانے اور شکایات کے طریقہ کار سے متعلق مؤثر پیغامات نمایاں کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ آگاہی مہم کا مقصد صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ والدین، اساتذہ، طلبہ، تاجر برادری، صنعتکاروں، ڈرائیوروں، ورکشاپ مالکان اور معاشرے کے دیگر طبقات کو بھی بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ بچوں کے تحفظ کا نظام کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، سوشل ویلفیئر، تعلیم، صحت، میونسپل کارپوریشن، سول سوسائٹی، والدین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔اجلاس میں بچوں سے متعلق شکایات کے فوری اندراج، متاثرہ بچوں کو قانونی و طبی معاونت، ضرورت کے مطابق نفسیاتی کونسلنگ، محفوظ ماحول کی فراہمی اور سنگین نوعیت کے کیسز میں فوری قانونی کارروائی کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر جمعہ داد خان مندوخیل نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور بچوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات کی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ضلع حب میں بچوں کے حقوق کے تحفظ، چائلڈ لیبر کے خاتمے اور بچوں کو محفوظ و صحت مند ماحول کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی، جبکہ بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر ضلع حب میں بچوں کے تحفظ، تعلیم، صحت، فلاح و بہبود اور بنیادی حقوق کے فروغ کے لیے سرکاری اداروں اور سول سوسائٹی کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

کیٹاگری میں : حب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں