ویٹی کن (آ وازٹائمز)عیسائیوں کے پیشوا پاپ لیو نے ویٹی کن میں سفارت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے بادل دوبارہ منڈلانا شروع ہوگئے ہیں،اس کی شدت میں اضافہ ہوراہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی سیاست میں طاقت کے زور پر سفارت کاری کثیر الجہتی اور مشاورت پر مبنی ڈپلومیسی کی جگہ لے رہی ہے۔پاپ نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم اصول، جو ممالک کو دوسروں کی سرحدوں کی خلاف ورزی سے روکنے کے لیے تھے، مکمل طور پر متاثر ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق امن کو برقرار رکھنے کے لیے ہتھیاروں پر انحصار اور اپنی حکمرانی کو مسلط کرنے کی کوشش عالمی قوانین کی بنیاد اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کے لیے خطرہ ہے۔پاپ لیو نے کثیرالجہتی تعاون کی کمزوری کو بین الاقوامی سطح پر ایک بڑا مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور قوانین پر عمل کرنا ریاستوں کا لازمی فریضہ ہے، اور یہ قوانین ہمیشہ جنگجووں کی خواہشات پر فوقیت رکھیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہسپتالوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچوں، گھروں اور روزمرہ زندگی کے لیے ضروری مقامات کی تباہی بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور عالمی برادری اس کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔یہ خطاب عالمی کشیدگی اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے حوالے سے پاپ کے انتہائی محتاط اور واضح موقف کو ظاہر کرتا ہے






