‌حب، شدید گرمی میں طویل لوڈشیڈنگ، بچوں کی تعلیم، کاروباری سرگرمیاں اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر

حب (ڈیلی آواز ٹائمز/نیاز اللہ سمالانی)بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں گزشتہ 12 گھنٹوں سے بجلی کی طویل بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ کے الیکٹرک کی جانب سے صورتحال پر مکمل خاموشی اختیار کیے جانے پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہےشہریوں کے مطابق نیو بلوچ کالونی، بلوچ خان رند کالونی، اکرم کالونی، گلشن لسبیلہ اور چیزل آباد سمیت متعدد علاقوں میں بجلی غائب ہےشدید گرمی میں طویل لوڈشیڈنگ کے باعث بچوں کی تعلیم، کاروباری سرگرمیاں اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی جانب سے کے الیکٹرک کے خلاف سخت کارروائی اور برہمی کے اظہار کے بعد بھی حب کے مختلف علاقوں میں بجلی کی صورتحال مزید خراب دکھائی دے رہی ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر کے الیکٹرک کو عوام کو بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کا پابند کون کرے گاشہریوں نے کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء اور ڈپٹی کمشنر حب جمعہ خان مندوخیل سے فوری نوٹس لینے اور کے الیکٹرک حکام کو حب شہر میں بجلی کی فراہمی فوری بحال کرنے کے سخت احکامات جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہےشہریوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر بجلی کی فراہمی فوری بحال نہ کی گئی تو عوام احتجاجاً سڑکوں پر نکلنے اور اہم شاہراہیں بند کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری کے الیکٹرک اور متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی شہریوں کا کہنا ہے کہ حب صنعتی شہر ہونے کے باوجود اگر یہاں کے عوام کو مسلسل گھنٹوں بجلی سے محروم رکھا جائے گا تو یہ ناقابلِ قبول ہے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی بندش کا فوری خاتمہ کرکے عوام کو مستقل اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے

کیٹاگری میں : حب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں