حب ڈیم 1980ء کی دہائی میں 20 ہزار آبادی کیلئے قائم کیا گیا تھا جو اب بڑھ کر 6 لاکھ ہوگئی ہے، ڈپٹی کمشنر

حب (ڈیلی آواز ٹائمز/نیاز اللہ سمالانی) ضلعی واٹر کمیٹی کا اہم اجلاس 18 اگست 2026 کو ڈپٹی کمشنر آفس حب میں ڈپٹی کمشنر حب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں حب میں جاری شدید آبی قلت، حب ڈیم سے پانی کی فراہمی، پانی کے موجودہ شیئر، صنعتی و زرعی شعبے کو درپیش مشکلات اور پانی کی چوری و ضیاع سمیت مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کرنل شہزاد قمر، ونگ کمانڈر 147 ونگ ایف سی حب، پراجیکٹ ڈائریکٹر حب ڈیم، ایس ڈی او واپڈا، ایکسین محکمہ آبپاشی حب، ایکسین محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ حب، ڈی ایس پی حب، اسسٹنٹ کمشنر حب، ایکسین لیڈا، چیئرمین میونسپل کمیٹی حب گل حسن، صدر حب چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اسماعیل ستار، صدر انجمنِ زمینداران حب رفیق سیپہاد، وائس چیئرمین حب عظیم سنیان، جنرل سیکرٹری لاسبیلہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (LCCI) اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت شاہد رونجھا سمیت متعلقہ محکموں کے افسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر حب نے کہا کہ جب حب ڈیم 1980ء کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا تو اس وقت حب کی آبادی تقریباً 20 ہزار نفوس پر مشتمل تھی، جبکہ آج حب کی آبادی بڑھ کر تقریباً 6 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ حب میں تقریباً 300 صنعتی یونٹس قائم ہو چکے ہیں، جبکہ ساکران سمیت ملحقہ علاقوں میں وسیع زرعی اراضی بھی موجود ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ موجودہ حالات میں شہری آبادی، صنعت اور زراعت تینوں شعبے پانی کی شدید قلت سے متاثر ہو رہے ہیں۔ پانی کی کمی کے باعث متعدد صنعتی یونٹس بندش کے قریب پہنچ چکے ہیں جبکہ ساکران کے کسان بھی اپنی فصلوں کی مناسب آبپاشی نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ حب ضلع کو اس وقت اس کے متوقع پانی کے حصے کا 30 فیصد سے بھی کم پانی موصول ہو رہا ہے، حالانکہ حب ڈیم کا کیچمنٹ ایریا بلوچستان میں واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال تشویشناک ہے، کیونکہ تقریباً تین ماہ قبل تک حب میں پانی کی ایسی شدید قلت موجود نہیں تھی، تاہم اچانک پانی کے حصے میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجوہات کا جامع جائزہ لینا ضروری ہے۔ڈپٹی کمشنر حب نے کہا کہ پانی حب کی بقاء کا مسئلہ ہے اور اسے صرف ایک انتظامی یا تکنیکی معاملہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہری آبادی کے لیے پینے کا پانی، صنعتی شعبے کے لیے ضروری پانی اور کسانوں کے لیے زرعی پانی کی فراہمی یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ آبی بحران برقرار رہا تو اس کے منفی اثرات نہ صرف شہری زندگی، صنعت اور زراعت پر مرتب ہوں گے بلکہ امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون سے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر حب ڈیم نے پانی کے شیئر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی اور حب کے لیے پانی کی تقسیم کا ایک باقاعدہ اور نوٹیفائیڈ طریقہ کار موجود ہے، جس کے تحت دونوں علاقوں کے پانی کے حصے کا تعین کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت پانی کی تقسیم ہوتی ہے اور کوئی فرد یا ادارہ اپنی مرضی سے اس نظام کو تبدیل نہیں کر سکتا۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے پانی کی تقسیم کے ساتھ ساتھ پانی چوری، غیر قانونی استعمال، ضیاع اور ترسیلی نظام میں ہونے والے نقصانات سمیت تمام عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کے مستقل حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر ایک ٹھوس اور قابلِ عمل حکمتِ عملی وضع کرنا ہوگی۔انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ بلوچستان کے حصے کا پانی جان بوجھ کر کم کیا جا رہا ہے اور کہا کہ پانی کی تقسیم مقررہ نظام اور قواعد کے مطابق ہوتی ہے، تاہم موجودہ صورتحال کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لے کر عملی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔اجلاس میں صدر حب چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اسماعیل ستار نے صنعتی شعبے کو درپیش پانی کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حب ملک کے اہم صنعتی مراکز میں شامل ہے اور پانی کی مسلسل کمی سے صنعتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کی پیداوار اور روزگار کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے پانی کی مناسب فراہمی ناگزیر ہے۔
صدر انجمنِ زمینداران حب رفیق سیپہاد نے زرعی شعبے کو درپیش مشکلات سے اجلاس کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی کمی کے باعث ساکران اور ملحقہ علاقوں کے کسان شدید متاثر ہو رہے ہیں اور فصلوں کی پیداوار خطرے میں ہے۔ انہوں نے زرعی زمینوں کے لیے پانی کی منصفانہ اور بروقت فراہمی کا مطالبہ کیااجلاس میں آبی بحران سے نمٹنے، پانی کی چوری اور غیر قانونی کنکشنز کے خاتمے کے لیے درج ذیل فوری اقدامات پر اتفاق کیا گیا:نہروں پر کسی بھی قسم کے غیر قانونی کنکشن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایکسین محکمہ آبپاشی، اسسٹنٹ کمشنر حب اور پولیس کے تعاون سے اس فیصلے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔نہروں کی چوبیس گھنٹے نگرانی اور گشت یقینی بنایا جائے گا۔ SHO ساکران اور HITE پولیس نہروں پر round-the-clock patrolling کا مؤثر انتظام کریں گے تاکہ پانی چوری یا غیر قانونی کنکشن کی بروقت روک تھام کی جا سکے۔ایکسین محکمہ آبپاشی ہر ایک کلومیٹر کے فاصلے پر محکمہ کے گارڈز تعینات کریں گے، جو نہروں اور پانی کی ترسیلی لائنوں کی نگرانی کریں گے اور کسی بھی غیر قانونی کنکشن کی اجازت نہیں دیں گےمشترکہ آپریشن ایکسین محکمہ آبپاشی، اسسٹنٹ کمشنر حب، پولیس اور ایف سی کے نمائندے پر مشتمل ٹیم کے ذریعے مسلسل چند روز تک کیا جائے گا، جس کا مقصد نہروں اور ترسیلی نظام سے غیر قانونی کنکشنز اور پانی چوری کا مکمل خاتمہ ہوگا۔غیر قانونی کنکشن نصب کرنے والے زمین مالکان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور متعلقہ قانونی دفعات کے تحت انہیں گرفتار کرکے جیل بھیجا جائے گا، جس میں ضرورت پڑنے پر 3-MPO کے تحت کارروائی بھی شامل ہوگی۔پانی کی تقسیم میں پہلی ترجیح شہری آبادی کے پینے کے پانی کو دی جائے گی۔ شہریوں کے لیے پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے بعد دستیاب پانی میں سے LIEDA Reservoir کو ترجیحی بنیادوں پر بھرا جائے گا تاکہ صنعتی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔پانی کے ضیاع، غیر قانونی استعمال، غیر قانونی کنکشنز، نہروں سے پانی کے اخراج اور ترسیلی نظام کے نقصانات کی نشاندہی کرکے فوری تدارک کیا جائے گا۔
تمام متعلقہ ادارے پانی کی دستیابی، موجودہ شیئر، ترسیل، طلب اور نقصانات سے متعلق مستند اعداد و شمار ضلعی انتظامیہ کو فراہم کریں گے تاکہ زمینی حقائق کی بنیاد پر مستقل حل کے لیے سفارشات مرتب کی جا سکیں۔اجلاس میں شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ حب میں بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی سرگرمیوں اور زرعی ضروریات کے پیشِ نظر موجودہ پانی کی قلت ایک سنگین نوعیت کا بحران بن چکی ہے، جس کے فوری تدارک کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ڈپٹی کمشنر حب نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ پانی کی دستیابی، تقسیم، ترسیل، پانی چوری، ضیاع اور موجودہ شیئر سمیت تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا جائے اور اعداد و شمار اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ٹھوس سفارشات مرتب کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ حب کی شہری آبادی، صنعتی شعبے اور زرعی معیشت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن فورم پر آواز اٹھائے گی اور پانی کے مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری جاری رکھی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حب کے آبی بحران کے حل کے لیے بین الادارہ جاتی تعاون، شفاف نظامِ تقسیم، پانی کے ضیاع اور چوری کی روک تھام اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک جامع اور پائیدار حکمتِ عملی وضع کی جائے گی تاکہ شہری آبادی کو پینے کے پانی کی فراہمی، صنعتی سرگرمیوں کا تسلسل اور ساکران سمیت دیگر علاقوں میں زرعی معیشت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

کیٹاگری میں : حب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں