ریلوے کی اربوں کی پرائم اراضی پر قبضہ یا اونے پونے داموں دئیے جانے کا انکشاف

اسلام آباد(روزنامہ آواز ٹائمز) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں انکشاف ہواہے کہ ریلوے کی اربوں روپے کی پرائم زمین پر لوگوں نے قبضہ کیاہوا ہے یا اورنے پونے داموں لوگوں کو دی گئی ہے۔ ریلوے کی غفلت کی وجہ سے کراچی میں 45ارب روپے کی پرائم زمین پر قبضہ کرکے کثیرمنزلہ عمارت بنادی گئی،کمیٹی نے ریلوے زمین کی ریوڑیو کی طرح بندربانٹ پر شدید برہمی کااظہارکرتے ہوئے ریلوے کو نقصان پہنچانے والوں کے تعین کے لیے ڈی اے سی میں انکوائری کے حکم کے باجود کئی سال گزر جانے کے باوجود انکوائری نہ ہونے پر سیکرٹری ریلوے کو جھاڑ پلادی کیا یہ افسران اس قدر طاقتور ہیں کہ سیکرٹری آفس کے حکم پر بھی انکوائری نہیں کررہے ہیں۔کمیٹی نے ڈی اے سیز میں ہونے والے انکوائریوں کے حکم پر فوری عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ انکوائری کرکے ذمہ داران کا تعین کیاجائے اور ان کوسزادی جائے۔ریلوے کے پاس اربوں روپے کی زمین ہے اس کو صحیح طرح استعمال کیاجائے۔بدھ کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر نواب شیر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت ریلوے سے متعلق سال 2017-18 اور 2018-19 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیاگیا۔کمیٹی میں انکشاف ہوا کہ ریلوے انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے 45 ارب سے زائد مالیت کی زمین کے نقصان کا ہوا ہے۔ جو کہ کراچی شہر میں ہے اور اس پر کثر منزلہ عمارت بنادی گئی ہے جبکہ ریلوے اپنی زمین سے بے خبر ہے۔آڈٹ حکام نے بتایاکہ کراچی ڈویژن کی 17 سائیٹس پر پرائیویٹ افراد نے عرصہ دراز سے قبضہ کر رکھا ہے، لوگوں نے زمین پر کثیر منزلہ عمارات بھی تعمیر کررکھی ہیں، کچھ زمین حکومت سندھ نے بھی خلاف ضابطہ طور پر لیز پر دے رکھی ہے،915 ایکڑ زمین 13 سائیٹس کی ہے،4سائیٹس کی زمین اور مالیت کا تعین باقی ہے، وفاقی سیکرٹری ریلوے نے کہاکہ اس میں 8 کورٹ کیسز ہیں، ملک مختار احمد نے کہاکہ مشترکہ مفادات کونسل میں معاملے کی نشاندہی کی جائے،کمیٹی نے معاملہ موخر کردیاکمیٹی میں راولپنڈی چکلالہ میں خلاف ضابطہ طور پر ریلوے زمین رہائشی مقاصد کے لئے دیئے جانے کا معاملہ زیر بحث آیا۔نیب حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ انکوائری کی انٹیرم رپورٹ جمع کرادی تھی،رکن ملک مختار احمد نے سوال کیاکہلیز پر زمین کس کو دی گئی تھی، ابھی وہاں ہاسنگ سوسائٹی بنی ہے یا نہیں۔ریلوے حکام نے بتایاکہ لیز پر زمین پرائیویٹ لوگوں کو دی گئی تھی، اس وقت وہ زمین خالی پڑی ہوئی ہے، انہوں نے دیوار لگانے کی کوشش کی تھی ہم نے گرا دی تھی، کمیٹی نے معاملہ آئندہ کے لئے موخر کردیا۔کمیٹی نے سیکرٹری ریلوے پر ریلوے کی زمینوں پر قبضہ پر شدید برہمی کااظہارکرتے ہوئے ڈی اے سی میں کئی سال گزر جانے کے باوجود ذمہ داران کے تعین اور ان کی سزا کے لیے انکوائری کے حکم پر عمل نہ ہونے پر سیکرٹری ریلوے کو جھاڑ پلادی ریوڑی کی طرح ریلوے زمینوں کی بند بانٹ کی گئی ہے، اربوں روپے کے لینڈ کے پیرے ہیں۔ دو سال پہلے اگر سیکرٹری ریلوے نے حکم دیاہے کہ ان معاملات کی انکوائری کی جائے تو انکوائری کیوں نہیں کی گئی جن افسران کو انکوائری کرنے کاحکم دیاگیاتھااور انہوں نے انکوائری نہیں کی ان کے خلاف بھی ایکشن لیاجائے اگر آڈٹ اس کی نشاندہی نہیں کرتا تو آپ تو بھول جاتے ہیں۔رکن کمیٹی محمدمختار نے کہاکہ جب پتہ چل گیا کہ راولپنڈی میں زمین غیر قانونی طریقہ سے دی گئی ہے تو 4سال کیوں لگے یہ جاننے کے لیے کہ یہ غیر قانونی ہے۔سکرٹری ریلوے کے احکامات پر کوئی عمل نہیں کررہاہے سیکرٹری انکوائری کا حکم دیتا ہے مگر انکوائری نہیں ہوتی تو اس کا مطلب ہے کہ سیکرٹری کوکوئی نہیں پوچھ رہاہے اور یہ افسران سیکرٹری ریلوے سے بھی زیادہ طاقت ور ہیں۔کنوینر کمیٹی نواب شیر نے ریلوے سیکرٹری کو جھاڑ پلاتے ہوئے کہاکہ آپ نے کیا کام کیا ہے طوطا کہانی سنا رہے ہیں کوئی کام بھی کریں گے کہ کوئی ایک پیرا ہی سیٹل ہوجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں