چھتر(آوازٹائمز)معروف سیاسی و قبائلی شخصیت میر ارشد حسین خان کھوسہ نے سانحہ پشاور سولہ دسمبر کی المناک برسی کے موقع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دلخراش واقعہ پوری پاکستانی قوم کے دلوں پر ایک ایسا ناسور ہے جو کبھی مندمل نہیں ہو سکے گا۔انہوں نے کہا کہ اس سانحے میں معصوم بچوں اور اساتذہ کی بے دردی سے شہادت نے ہر آنکھ کو اشکبار اور ہر دل کو غمزدہ کر دیا۔ میر ارشد حسین خان کھوسہ نے کہا کہ سولہ دسمبر کا سانحہ محض ایک تعلیمی ادارے پر حملہ نہیں تھا بلکہ یہ انسانیت، علم، امن اور پاکستان کے مستقبل پر حملہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ معصوم بچوں اور اساتذہ کی قربانی کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی اور یہ واقعہ دہشت گردی کی بدترین مثال ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے اس سانحے کے بعد جس حوصلے، اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تحسین ہے، تاہم آج بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم بحیثیت قوم امن اور تعلیم کے دشمن عناصر کے خلاف متحد رہیں۔میر ارشد حسین خان کھوسہ نے زور دیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قومی سطح پر سنجیدہ اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ پشاور میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی دشمن قوت ہمارے بچوں کے محفوظ مستقبل کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کر سکے۔انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کو مزید مثر بنایا جائے اور طلبہ و اساتذہ کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی سانحہ پشاور کے تمام شہدا کو جوارِ رحمت میں اعلی مقام عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد اور مکمل صحتیابی نصیب کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین






