ریاض(آوازٹائمز)سعودی عرب نے امریکہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت شام پر سیزر ایکٹ کے تحت عائد پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں۔ یہ بات سعودی وزارتِ خارجہ نے جمعے کے روز جاری ایک بیان میں کہی۔وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق، ”مملکتِ سعودی عرب امریکہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے کہ شام پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔ مملکت اس امر پر زور دیتی ہے کہ یہ قدم شام میں استحکام، خوشحالی اور ترقی کو فروغ دے گا اور برادر شامی عوام کی امنگوں کی تکمیل میں مددگار ثابت ہوگا۔“یہ ردِعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس نے بدھ کے روز معزول صدر بشار الاسد کے دور میں شام پر عائد کی گئی پابندیوں کو مستقل طور پر ختم کر دیا، جس سے جنگ سے تباہ حال ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل دو مرتبہ پابندیوں کے نفاذ کو معطل کر چکے تھے، تاہم شامی صدر احمد الشراع نے پابندیوں کے مستقل خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ پابندیاں قانونی طور پر برقرار رہیں گی، دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں قانونی خطرات کے باعث کاروباری ادارے سرمایہ کاری سے گریز کریں گے۔سیزر ایکٹ، جو 2019 میں نافذ کیا گیا تھا، اس کی منسوخی کو امریکی سینیٹ نے سالانہ دفاعی پیکیج کے حصے کے طور پر منظور کیا۔ قانون کے حق میں 77 جبکہ مخالفت میں 20 ووٹ پڑے۔ یہ بل پہلے ہی ایوانِ نمائندگان سے منظور ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ صدر ٹرمپ جلد اس پر دستخط کریں گے






