آج ہم سانحہ 8 اگست 2016 کے شہدا کی دسویں برسی منا رہے ہیں۔ دس سال گزرنے کے باوجود کل کی طرح یادیں اور زخم تازہ ہیں۔
ہم بلوچستان کے باسی دن میں پانچ فرض نمازوں کے علاوہ روزانہ جنازہ کی نماز بھی پڑھتے ہیں۔
8 اگست 2016 کو ایک ایسا دلخراش واقعہ رونما ہوا جس کی نظیر بلوچستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ویسے تو بلوچستان میں بم دھماکے،خود کش حملے، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات میں شدت 2006 اور 2007 سے آئی۔ یہاں ایسے واقعات بھی ہوۓ جن میں بیک وقت دو سو افراد شہید ہوۓ جو صبح گھر سے خوش وخرم اپنے ماں باپ بیوی بچوں کو الوداع کہتے ہوہے نکلے اور کچھ دیر بعد ان کے جنازے ان کے گھر پہنچے۔ جس سے کہرام مچ جاتا۔کوہیٹہ، ہنہ وڑک ،زیارت،ہرنائی، کوہیٹہ تا کراچی کوئٹہ تا سبی کے حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں گاڑیاں جلانا روز کا معمول بن چکا ہے
23 جولائی 2026 قاتلانہ میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ و گین مین کی شہادت اور ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی ہوگئے عبدالحکیم کاکڑ شہید انسان دوست خوش اخلاق و خوش مزاج انسان /جج تھا تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی
8 اگست 2016 کو صبح کوئٹہ بار ایسی ایشن کے صدر ملک بلال انور کاسی کو ان کے گھر کے قریب منو جان روڈ پر گھات لگا کر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ فائرنگ اور شہادت کی اطلاع پاکر سینکڑوں وکلاء جج صاحبان صحافی حضرات کمرہ مین سول سوسائٹی کے لوگ سول ہسپتال پہنچے تو تقریباً 9:36 بجے ایک زوردار دھماکہ ہوا دھماکے کے بعد قیامت کا منظر تھا ہر طرف لاشیں پڑی تھیں۔ لاش کے اوپر لاش زخمی کے اوپر زخمی پڑے تھے اکثر لاشیں جلی ہوئی تھی سول ہسپتال کوئٹہ کے سینکڑوں ڈاکٹرز اور عملے میں صرف ایک لیڈی ڈاکٹر شیلا کاکڑ مرحومہ زخمیوں کی مدد اور مرہم پٹی میں مصروف تھی سٹریچر کم ہونے کی وجہ سے دو دو زخمیوں کو ایک سٹریچر پر لٹایا گیا۔ ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے اپنے زخمی دوست عبدالمالک شیرانی ایڈووکیٹ اور نوید قمبرانی ایڈووکیٹ کو پولیس کی گاڑی میں سی ایم ایچ کوئٹہ لے گئے۔ بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے شہدا کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ افسوس اور دکھ اس بات کا کہ لوگ موت سے بچنے کیلئے ہسپتال جاتے ہیں اور ہمارے ساتھی ہسپتال میں تڑپتے تڑپتے شہید ہوگئے۔ 8 اگست 2016 کو شاید صوبے کا کوئی ضلع بچا ہو جس میں کوئٹہ سے تابوت نہ گیا ہو۔ شیرانی ژوب سے لیکر حب تک سوگ کا عالم تھا صوبے میں علاج معالجے کی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے شدید زخمیوں کو بذریعہ جہاز کراچی منتقل کیاگیا کچھ دوست آج تک معذور ہے جن میں ضمیر چھلگری ایڈووکیٹ راجش کوہلی ایڈووکیٹ نوید قمبرانی ایڈووکیٹ مظہر صدیق ایڈووکیٹ رحمت خلجی ایڈووکیٹ وغیرہ حکومت نے زخمیوں کا علاج ادھورا چھوڑ دیا بیواوں یتیموں کو آج تک نوکریاں نہیں ملیں۔ حکومتی وعدے محض زبانی جمع خرچ اور جھوٹے اعلانات کی حد تک محدود ثابت ہوئے۔ جس پر کوئی عمل درامد نہ ہو سکا۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے سانحہ 8 اگست 2016 کے واقعہ کا سو موٹو نوٹس لیتے ہوئے ایک رکنی جوڈیشل کمشین کا قیام عمل میں لایا سپریم کورٹ کے جج جناب جسٹس قاضی فائز عیسی صاحب کو کمیشن کا واحد رکن مقرر کیا کمیشن نے سماعت شروع کی تو حکومت بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی نے قاضی فائز عیسی پر اعتراض کرتے ہوۓ کہا کہ آپ نے سانحہ 8 اگست کے شہدا کے ورثاء کے نام ایک خط لکھا اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اس لیے آپ اس کمیشن سے علیحدہ ہو جائیں جسٹس قاضی فائر عیسی نے پوچھا کیا آپ کو میرے خط میں بیان کیے گیے الفاظ سے اختلاف ہے امان اللہ کنرانی نے جواب میں کہا آپ نے خط میں جو لکھا ٹھیک لکھا لیکن آپ کمیشن سے علیحدہ ہو جائیں۔ کمیشن نے ان کا یہ بے بنیاد اعتراض کو رد کیا اور اپنا کام جاری رکھا جنہوں نے بلا ناغہ 56 یوم کام کیا جامع۔ اور مفصل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کیا آج تک اس رپورٹ پر عمل درآمد نہیں ہو سکا آج دسویں برسی ہے دھماکے کی آواز اور ساتھیوں کی چیخ و پکار کانوں میں گونج رہی ہے شہید ضیا الدین آغا ایڈووکیٹ والدین کا اکلوتا بیٹا تھا شہید ضیاالدین آغا ایڈووکیٹ کے والد عبدالرب آغا نے اتنے بڑے سانحے،دکھ درد غم کے باوجود شہید وکلا پر ایک جامعہ اور مفصل کتاب تحریر کی اللہ تعالیٰ شہدا کے درجات بلند فرماۓ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرماۓ اور اللی تعالیٰ ہمارے وطن کو امن کا گہوارہ بناۓ.
تحریر عبدالواحد کاکڑ ایڈووکیٹ






