اورماڑہ، کوسٹل ہائی وے N-10 سے آنے والی یہ تصاویر کسی حادثے کی صرف ایک جھلک نہیں، بلکہ ایک ایسے سانحے کی گواہی دے رہی ہیں جس نے کئی خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے غم میں مبتلا کر دیا۔
ایل پی جی گیس باؤزر اور ٹویوٹا کرولا کے خوفناک تصادم کے بعد گاڑی آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حادثے اور آگ کے بعد گاڑی کا ڈھانچہ بری طرح تباہ ہو چکا ہے، ٹائر الگ پڑے ہیں اور گاڑی تقریباً مکمل طور پر جل چکی ہے۔
اس المناک حادثے میں چھ افراد، جن میں دو مرد، دو خواتین اور دو معصوم بچے شامل تھے، جان کی بازی ہار گئے۔
دو بچے۔۔۔ جنہیں ابھی زندگی کے کئی سال دیکھنے تھے،
لیکن ایک خوفناک حادثے نے ان کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھا دیا۔
اب سوال صرف حادثے کا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ پاکستانی سڑکوں پر سفر کرنے والے شہریوں کو گاڑی کی قیمت کے ساتھ کتنی حقیقی حفاظت فراہم کی جا رہی ہے؟
یہ تصویر دیکھنے کے بعد عام شہری کے ذہن میں ایک اہم سوال ضرور پیدا ہوتا ہے:
اگر لاکھوں روپے کی گاڑی ایک خوفناک تصادم کے بعد اس حد تک تباہ ہو جائے، تو اس گاڑی کے سیفٹی اسٹرکچر، کریش پروٹیکشن، ایئر بیگز، سیٹ بیلٹ سسٹم اور حادثے کے بعد مسافروں کے تحفظ کا آزادانہ جائزہ کیوں نہ لیا جائے؟
ہم کسی کمپنی کو صرف ایک تصویر کی بنیاد پر قصوروار قرار نہیں دے سکتے۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک ایسی گاڑی جس میں چھ انسان سفر کر رہے تھے، اس حادثے کے بعد اس حالت میں ملی ہے کہ عوام کے ذہن میں اس کی حفاظتی کارکردگی سے متعلق سوالات پیدا ہونا فطری بات ہے۔
اور یہی وہ سوال ہے جس کا جواب ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی اور متعلقہ حکام کو دینا چاہیے۔
کیا اس گاڑی کی مکمل فرانزک اور انجینئرنگ جانچ ہوگی؟
کیا یہ دیکھا جائے گا کہ حادثے کے وقت ایئر بیگز نے درست طور پر کام کیا یا نہیں؟
کیا گاڑی کے سیفٹی کیج اور بنیادی ڈھانچے کا آزاد ماہرین سے معائنہ کرایا جائے گا؟
اور سب سے اہم سوال :
کیا اس حادثے میں گاڑی کی حفاظتی کارکردگی نے مسافروں کے بچنے کے امکانات پر کوئی اثر ڈالا یا نہیں؟
ان سوالات کا جواب قیاس آرائی سے نہیں بلکہ شفاف اور آزادانہ تحقیقات سے ملنا چاہیے۔
کیونکہ بات صرف ایک ٹویوٹا کرولا کی نہیں۔
بات ہر اس پاکستانی شہری کی ہے جو اپنی محنت کی کمائی سے گاڑی خریدتا ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ مشکل وقت میں اس کی گاڑی اس کی حفاظت کرے گی۔
ٹویوٹا ہو، ہونڈا ہو، سوزوکی ہو یا کوئی بھی دوسری کمپنی — پاکستانی صارف کو صرف مہنگی گاڑی نہیں، محفوظ گاڑی کا حق بھی حاصل ہے۔
اس سانحے کے بعد حکومت، متعلقہ اداروں اور گاڑی بنانے والی کمپنی سے مطالبہ ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، گاڑی کے ملبے کا تکنیکی معائنہ کیا جائے اور اگر کسی قسم کی حفاظتی خامی یا غفلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
چھ قیمتی جانیں واپس نہیں آ سکتیں۔
مگر اگر اس سانحے کے بعد بھی سوالات کو نظر انداز کر دیا گیا، تو کل یہی سوال کسی اور خاندان کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے۔
یہ صرف ایک جلی ہوئی گاڑی کی تصویر نہیں۔۔۔
یہ پاکستانی صارف کے تحفظ کے بارے میں ایک بڑا سوال ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سوال کا جواب کون دیتا ہے؟
رپورٹ: یاسر ملازئی، ڈیلی آواز ٹائمز گڈانی






