نوے کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک لازوال ڈرامہ ‘آنچ’ نشر ہوا کرتا تھا، جس میں مرکزی کردار ممتاز اداکار شبیر جان نے نبھایا۔ اسی دور میں بلوچستان چمن درہ کوژک کے ایک غیور خاندان میں جب ایک نومولود نے آنکھ کھولی، تو والدین نے اس ڈرامے کے سحر اور کردار کی مقبولیت سے متاثر ہو کر معصوم بچے کا نام ‘شبیر احمد’ رکھ دیا۔ وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا اور شبیر بھی دیگر بچوں کی طرح انتہائی ذہین مگر شرارتی لڑکے کے روپ میں ابھرے۔ وہ اتنے فطین تھے کہ تمام رشتہ دار ان کی شرارتوں سے بخوبی واقف تھے۔ بڑھتی عمر کے ساتھ شبیر نے ایک انوکھا فن سیکھ لیا اور وہ فن تھا دوسروں کی ہو بہو نقالی (Mimicry) کرنا۔ وہ جب اپنے والدین کی نقل اتارتے تو دیکھنے والے دنگ رہ جاتے کہ کوئی بچہ اس قدر مہارت سے بڑوں کا اندازِ گفتگو کیسے اپنا سکتا ہے۔
بچپن کے اسی البیلے پن میں شبیر کو پرندوں، بلیوں، بطخوں اور مرغیوں سے گہری دوستی ہو گئی۔ مگر یہ معصومانہ دوستی ایک دن ان کے لیے بڑی بھاری ثابت ہوئی۔ ہوا یوں کہ ایک روز شبیر مرغوں کے باڑے میں داخل ہو گئےجہاں ایک جھگڑالو مرغے نے اڑ کر ان کے ماتھے پر اپنی تیز چونچ سے گہرا زخم لگا دیا۔ دیہات کا ماحول تھا اس وقت تو عارضی مرہم پٹی کر دی گئی مگر بچہ کہاں ٹکنے والا تھا۔ شبیر نے پرہیز نہ کیا اور گاؤں کے جوہڑ (تالاب) کے پانی میں نہاتے رہے، جس کے باعث ماتھے کا وہ زخم شدید انفیکشن میں بدل گیا اور یہ زہر آنکھوں تک پھیل گیا۔ ڈاکٹروں نے طویل علاج اور سخت ادویات کے ساتھ انہیں چشمہ لگانے کی تجویز دی۔ بس پھر کیا تھا بچپن کے اس حادثے نے شبیر کو ہمیشہ کے لیے ایک نیا نام دے دیا۔ اپنوں سے لے کر پرائے تک، سب انہیں محبت اور چھیڑنے کے انداز میں ‘ڈاکٹر’ کہہ کر پکارنے لگے۔ یہاں تک کہ جب انہیں گاؤں کے ‘ کمیونٹی سکول’ میں جب داخل کرایا گیا، تو ان کی استانی میڈم نسرین صاحبہ بھی اس نئے طالب علم کو پیار سے ‘ڈاکٹر’ ہی کہنے لگیں۔ گویا قدرت نے بچپن ہی میں ان کے نام کے ساتھ اس مقدس پیشے کی مہر لگا دی تھی۔
شبیر احمد کے بڑے بھائی محنت مزدوری کرتے تھے اور گھر پر غربت کا گہرا سایہ تھا۔ لیکن ان نامساعد حالات کے باوجود شبیر کے سینے میں علم کا ایک ایسا الاؤ روشن تھا جو بجھنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ ان کے اندر پڑھنے کا جنون دیکھ کر گھر والوں نے پیٹ کاٹ کر انہیں کوئٹہ میں ‘ولی خان صاحب کے سکول’ میں داخل کروا دیا۔ سکول کا یہ دور بھی عجیب تھا، پرائمری کا یہ طالب علم جب بھی اپنا نام لکھتا تو نام سے پہلے ‘ڈاکٹر’ لازمی لکھتا تھا۔ یہ ایک خواب تھا جو ایک غریب بچے کی آنکھوں میں مچل رہا تھا۔ ابھی تعلیمی سفر آدھا بھی نہ ہوا تھا کہ روزگار کے بے رحم تقاضوں کے تحت بڑے بھائی کو دیارِ غیر کا رختِ سفر باندھنا پڑا، جس سے شبیر کی رہائش اور پڑھائی شدید خطرے میں پڑ گئی۔ حالات سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے شبیر اور ان کے دوسرے طالب علم بھائی نے کوئٹہ شہر کے ‘کاسی قبرستان’ کے قریب دو انتہائی خستہ حال اور پرانی دکانیں کرائے پر لے لیں، جن کے آگے حفاظتی شٹر تک غائب تھے۔ انہوں نے ایک دکان کو پڑھائی اور سونے کے لیے چنا، جبکہ دوسری دکان میں کچن اور غسل خانے کا عارضی انتظام کیا۔ چونکہ باہر کوئی حفاظتی دروازہ نہیں تھا اور سڑک کا شور کان پڑی آواز سنائی نہ دیتا تھا، اس لیے شبیر کو مجبورا کچن کے چھوٹے سے کونے میں بیٹھ کر پڑھنا پڑتا تھا۔ ان دکانوں کی رات بھر چوکیداری بھی ایک عذاب تھی، کیونکہ رات ڈھلتے ہی قبرستان کے گرد و نواح سے نشئی، جواری اور آوارہ گرد وہاں آ دھمکتے اور دکان کے تھڑوں پر چادریں بچھا کر تاش اور لڈو کا کھیل جماتے۔ ان کا شور شبیر کی پڑھائی میں شدید خلل ڈالتا مگر اس نوجوان نے دل میں ٹھان لی تھی کہ حالات چاہے جتنے بھی بھیانک ہو اس کا رخ صرف اور صرف پڑھائی کی طرف رہے گا۔
جب ہائر سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ (ایچ ایس سی) کا رزلٹ آیا، تو شبیر نے گھر والوں کو وہ خوشخبری سنائی جس کا انتظار تھا۔وہ اب ملک کے کسی بھی نامور طبی ادارے سے ایم بی بی ایس (MBBS) کا امتحان دینے کے اہل ہو چکے تھے۔ گھر والے ان کی اس ضد، جنون اور پڑھائی سے عشق سے واقف تھے لیکن انہیں ڈر تھا کہ اگر ملک کے سخت مسابقتی امتحانات میں کوئی اونچ نیچ ہو گئی تو یہ حساس لڑکا دل برداشتہ نہ ہو جائے۔ چنانچہ بڑے بھائی نے اپنی خون پسینے کی کمائی اور قرض کو یکجا کیا اور شبیر کو کرغزستان کی مشہور ‘الاطونز انٹرنیشنل یونیورسٹی’ (Alatoo International University) میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ دلوا دیا۔
محنت کا سفر جاری تھا کہ سال 2024ء میں کرغزستان اچانک خانہ جنگی اور انتہا پسندی کی لپیٹ میں آ گیا۔ پورے ملک میں لڑائی چھڑ گئی، شہر محصور ہو گئے اور شبیر اس آگ کے درمیان پھنس گئے۔ پاکستان میں موجود ان کا خاندان شدید کرب اور اضطراب کا شکار ہو گیا، کئی دنوں تک رابطہ مکمل طور پر منقطع رہا اور گھر میں کہرام مچا رہا۔ مگر قدرت کو اپنے اس بندے کی حفاظت کرنی تھی۔ ایک دن اچانک فون کی گھنٹی بجی اور دوسری طرف سے شبیر کی آواز آئی: “میں بالکل ٹھیک ہوں، آپ پریشان نہ ہوں!” اس ہولناک جنگ کے دوران بھی شبیر کا عزم متزلزل نہ ہوا اور وہ کیمپس کے بند کمرے میں اپنی کتابوں میں مگن رہے۔
شبیر کی اس بے مثال یکسوئی کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ہر سمسٹر میں 100 فیصد نمبر حاصل کرتے رہے۔ ان کی اسی غیر معمولی ذہانت اور ریکارڈ ساز کارکردگی کو دیکھتے ہوئے رواں سال ‘الاطونز انٹرنیشنل یونیورسٹی’ نے انہیں یونیورسٹی کے سب سے بڑے اعزاز ‘ریڈ ڈپلومہ’ (Red Diploma)، گولڈ میڈل اور بھاری نقد انعام سے نوازا۔ یہی نہیں، بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کی تمام سمسٹرز کی تعلیمی فیس بھی بطور اسکالرشپ واپس (Refund) کر دی اور انہیں ‘الاطونز ہاسپٹل’ میں اعلیٰ منصب کی پیشکش کی ہے۔ یوں ان کی MD ڈگری مکمل ہوگئی ۔ واضح رہے کہ ‘ریڈ ڈپلومہ’ کا یہ باوقار اعزاز حاصل کرنے والے شبیر احمد پہلے پاکستانی طالب علم ہیں، جبکہ اس سے قبل دس سال پہلے یہ اعزاز صرف ایک ترک طالب علم کے حصے میں آیا تھا۔
ڈاکٹر شبیر احمد کی اس تاریخی اور شاندار کامیابی پر پاکستان خاص کر صوبہ بلوچستان کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔ بلوچستان کی صوبائی وزیر تعلیم محترمہ راحیلہ حمید خان درانی صاحبہ نے ڈاکٹر شبیر کو خود ٹیلی فون کر کے شاندار الفاظ میں مبارکباد دی جبکہ بلوچستان اسمبلی کے معزز اسپیکر کیپٹن (ریٹائرڈ) عبدالخالق اچکزئی نے اس تاریخی کامیابی پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر شبیر احمد کا نام ‘میڈل آف آنرز’ کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شبیر احمد نے نہ صرف پاکستان بلکہ اپنے آبائی ضلع چمن اور پورے بلوچستان کا نام دنیا بھر میں روشن کر دیا ہے۔ سچ ہے کہ اگر عزم سچا ہو اور ارادے فولادی تو کاسی قبرستان کے تھڑے سے اٹھنے والا ایک غریب بچہ بھی دنیا کے افق پر ستارہ بن کر چمک سکتا ہے۔
تحریر : حفیظ اللہ خان






