نئی دہلی (ڈیلی آوازٹائمز) بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر گزشتہ تقریباً 2 ماہ سے جاری نوجوانوں کی احتجاجی تحریک بالآخر کامیاب ہو گئی اور وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جسے وزیراعظم نریندر مودی نے قبول کر لیا ہے۔بھارتی میڈیا نے وزیر تعلیم کے استعفے اور وزیراعظم کی جانب سے اس کی منظوری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پیپر لیک اسکینڈل پر بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ، مسلسل احتجاج اور سیاسی مخالفت کے باعث حکومت کو یہ فیصلہ کرنا پڑا۔دوسری جانب احتجاج کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اس پیش رفت کو اپنی تحریک کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔پارٹی کے ترجمان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اگر دھرمیندر پردھان نے واقعی استعفیٰ دے دیا ہے تو یہ خوش آئند پیش رفت ہے، تاہم اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے تاحال پارٹی سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا۔’یہ کہا جاتا تھا کہ اس حکومت میں کوئی استعفیٰ نہیں دیتا، لیکن دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔ ہم نے ثابت کر دیا کہ عوام کی طاقت کے سامنے حکومت کو جھکنا پڑتا ہے۔واضح رہے کہ میڈیکل اور دیگر اہم داخلہ امتحانات کے سوالیہ پرچے لیک ہونے کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی گزشتہ تقریباً 2 ماہ سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر مسلسل احتجاج کر رہی تھی۔اس دوران معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی نوجوانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے 26 روز تک بھوک ہڑتال کی، جس کے بعد اس تحریک کو مزید تقویت ملی۔20 جولائی کو پارٹی نے ملک بھر کے نوجوانوں کو جنتر منتر پہنچنے کی کال دی، جس پر ہزاروں افراد احتجاج میں شریک ہوئے۔تاہم بھارتی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج، واٹر کینن اور دیگر سخت اقدامات کا سہارا لیا، جبکہ درجنوں نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔ان کارروائیوں کے باوجود مظاہرین نے احتجاج جاری رکھا اور اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔احتجاج کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے نوجوانوں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی تجویز دی۔تاہم مظاہرین نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا بنیادی مطالبہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ اور امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات ہیں۔اس تحریک کو بھارت کی مختلف اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور متعدد سیاسی و سماجی شخصیات کی حمایت بھی حاصل رہی، جنہوں نے پیپر لیک اسکینڈل کو حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے نوجوانوں کے مطالبات کو جائز اور عوامی مفاد کے مطابق قرار دیا۔وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو اسی عوامی دباؤ اور مسلسل احتجاج کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے






