میرے والد ایک نہایت سادہ، محنتی اور خوددار انسان تھے۔ وہ ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کے دفاتر میں بطور پیون (چپڑاسی) ملازمت کرتے تھے۔ ان کا عہدہ معمولی تھا، مگر ان کے خواب بہت بلند تھے۔ وہ خود محنت اور مشکلات کی زندگی گزارتے رہے، لیکن ان کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ ان کے بچے تعلیم حاصل کریں اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزاریں۔
میرے والد کی سب سے بڑی قربانی یہ تھی کہ انہوں نے اپنی محدود حیثیت کو اپنے بچوں کے مستقبل کی حد نہیں بننے دیا۔ اپنی محنت، صبر اور قربانیوں سے انہوں نے ہمارے لیے تعلیم اور ترقی کی راہیں ہموار کیں۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف اپنے خاندان کی کفالت نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن بنانا تھا۔
آج میرے تمام بھائی تعلیم یافتہ ہیں، جبکہ اگلی نسل میں کوئی پی ایچ ڈی ہے، کوئی پاک فوج میں خدمات انجام دے رہا ہے، کوئی ڈپٹی کمشنر ہے، اور کوئی پولیس و تعلیم کے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ میں خود پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب کاکڑ، ڈین فیکلٹی آف لائف سائنسز، یونیورسٹی آف بلوچستان، کوئٹہ، اپنے مقام کو اپنے والد کی محنت، دعاؤں اور قربانیوں کا ثمر سمجھتا ہوں۔
میرے والد کا عہدہ چھوٹا تھا، مگر ان کا خواب بہت بڑا تھا۔ انہوں نے خود سادہ زندگی گزاری، مگر اپنی اولاد کے لیے کامیابیوں کے دروازے کھول دیے۔ یہی ایک باپ کی حقیقی عظمت اور زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
مجھے اپنے والد پر فخر ہے کہ انہوں نے دولت نہیں، تعلیم کو وراثت بنایا؛ آسائشیں نہیں، بلند حوصلے دیے؛ اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ انسان کی عظمت اس کے عہدے سے نہیں، بلکہ اس کی قربانیوں اور اس کی اولاد کے روشن مستقبل سے پہچانی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ میرے والد اور چچا کی مغفرت فرمائے اور ان کی قربانیوں کو صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔
سلام ہے اس عظیم باپ کو جس نے خود محنت کی، مشکلات برداشت کیں، مگر اپنی نسلوں کے مستقبل کو روشن کر دیا۔
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب کاکڑ
ڈین، فیکلٹی آف لائف سائنسز، یونیورسٹی آف بلوچستان، کوئٹہ








