کوئٹہ(ڈیلی آوازٹائمز)محکمہ مائنز اینڈ منرلز بلوچستان کی رپورٹ نے صوبے میں کان کنوں کی حفاظت، مائننگ قوانین پر عمل درآمد اور سرکاری نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سال 2021 سے 2025 کے دوران بلوچستان بھر میں مختلف کوئلہ، کرومائٹ اور دیگر معدنیات کی کانوں میں پیش آنے والے حادثات میں مجموعی طور پر 383 کان کن جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں اوسطا ہر چند دن بعد ایک کان کن اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، جبکہ متعدد مزدور مستقل معذوری کا شکار بھی ہوئے رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سب سے اہم سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ ان سینکڑوں قیمتی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار آخر کون ہے؟ کیا یہ ذمہ داری صرف کان مالکان پر عائد ہوتی ہے، یا ٹھیکیدار، مائنز انسپکٹریٹ، محکمہ مائنز اینڈ منرلز اور حکومت بلوچستان بھی اس میں برابر کی شریک ہیں ماہرین کے مطابق بلوچستان مائنز ایکٹ، مائنز رولز اور مائن سیفٹی قوانین کے تحت کسی بھی کان میں کام شروع کرنے سے قبل مناسب وینٹی لیشن، گیس کی نگرانی، حفاظتی آلات، ہنگامی راستے، تربیت یافتہ عملہ، ریسکیو انتظامات اور باقاعدہ معائنہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اگر ان قوانین پر مکمل عمل درآمد ہو تو اکثر حادثات کو روکا جا سکتا ہے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی حادثے کی صورت میں ذمہ داری ایک فریق تک محدود نہیں رہتی بلکہ مختلف سطحوں پر جوابدہی بنتی ہے کان مالکان اس بات کے ذمہ دار ہوتے ہیں کہ کان محفوظ ہو، حفاظتی آلات فراہم کیے جائیں، گیس مانیٹرنگ سسٹم نصب ہو اور مزدوروں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے ٹھیکیداروں پر لازم ہے کہ وہ غیر تربیت یافتہ افراد کو کان میں نہ اتاریں، حفاظتی اصولوں پر عمل کرائیں اور مزدوروں کو ضروری سامان فراہم کریں مائنز انسپکٹریٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ باقاعدگی سے کانوں کا معائنہ کرے، غیر محفوظ کانوں کو سیل کرے، خلاف ورزی پر جرمانے اور مقدمات درج کرے اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائے حکومت بلوچستان اور محکمہ مائنز اینڈ منرلز کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مثر نگرانی، قانون سازی، ریسکیو نظام، جدید حفاظتی ٹیکنالوجی، لیبر انسپکشن اور احتساب کے نظام کو فعال بنائیں تاکہ ایسے سانحات کی روک تھام ہو سکے یو این اے سے بات چیت میں لیبر تنظیموں اور مائن ورکرز یونینز کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی بیشتر کانوں میں آج بھی مزدور بنیادی حفاظتی سامان، ہیلمٹ، آکسیجن آلات، گیس ڈیٹیکٹر اور ایمرجنسی ریسکیو سہولیات کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کا مقف ہے کہ حادثات کے بعد چند روز شور مچتا ہے لیکن بعد میں نہ تو کسی بڑے ذمہ دار کو سزا ملتی ہے اور نہ ہی نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی آتی ہے مزدور رہنماں کا کہنا ہے کہ ہر بڑے حادثے کے بعد انکوائری کمیٹیاں ضرور تشکیل دی جاتی ہیں، مگر ان کی رپورٹس شاذ و نادر ہی منظر عام پر آتی ہیں۔ اگر کسی کان مالک یا ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ درج بھی ہو جائے تو زیادہ تر معاملات وقت کے ساتھ دب جاتے ہیں، جس کی وجہ سے غفلت کا سلسلہ جاری رہتا ہے قانونی حلقوں کے مطابق اگر کسی حادثے میں غفلت یا حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہو جائے تو متعلقہ کان مالک، سپروائزر یا ذمہ دار افسر کے خلاف فوجداری کارروائی، جرمانہ، لائسنس کی معطلی یا منسوخی اور دیگر قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں






