کرخ: بازار کی روزانہ بندش، محدود اوقات اور بھاری کرایوں سے تاجر برادری اور عوام پریشان حال

کرخ کے عوام 21ویں صدی میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم اور بازار کی روزانہ بندش کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کرخ کا مرکزی بازار روزانہ صرف صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک کھولا جا رہا ہے۔ 8 گھنٹے کے اس محدود وقت نے تاجر برادری کا کاروبار مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف کاروبار کا وقت بہت کم ہے، دوسری طرف دکانوں کے کرائے آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ مالکان پورے مہینے کا کرایہ وصول کر رہے ہیں جبکہ تاجر آدھا وقت بھی دکان نہیں کھول پا رہے۔ “کرایہ پورا، بجلی صفر، گاہک صفر، وقت 8 گھنٹے” – اس صورتحال میں سینکڑوں خاندان فاقوں پر آ گئے ہیں۔

شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ کرخ میں پہلے ہی نہ بجلی ہے، نہ انٹرنیٹ، نہ بینک، نہ نادرا اور نہ کوئی علاقہ نمائندگی موجود ہے جو عوام کے مسائل ایوانوں تک پہنچا سکے۔ RHC ہسپتال واحد سہولت ہے جو وہ بھی وسائل کی کمی کا شکار ہے۔ بازار کی روزانہ بندش سے مریضوں، طلباء اور دیہاڑی دار مزدوروں کو روزمرہ کی ضروریات کی اشیاء خریدنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔

اہلیانِ کرخ اور تاجر برادری نے حکومتِ بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور اربابِ اختیار سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بازار کے اوقات کار میں اضافہ کیا جائے، کرایوں میں کمی کی جائے اور کرخ کو بنیادی سہولیات فراہم کر کے عوام کو ریلیف دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ “کرخ کے لوگ بھی اس ملک کے شہری ہیں، ہمارے ساتھ بھی انصاف کیا جائے.

رپورٹ: خیر جان رند

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں