کوئٹہ(ڈیلی آوازٹائمز)انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کے خلاف درج دہشت گردی کے مقدمے (ایف آئی آر نمبر 83/2025)کو غیر قانونی، بدنیتی پر مبنی اور کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے ساجد ترین ایڈووکیٹ کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا،جس کے مطابق سردار اختر جان مینگل کے خلاف درج دہشت گردی کی ایف آئی آر قانونی تقاضوں پر پوری نہیں اترتی۔ سماعت کے دوران بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور سپریم کورٹ کے وکیل آغا حسن بلوچ بھی عدالت میں موجود تھے۔یاد رہے کہ سردار اختر جان مینگل کے خلاف بی وائی سی کی قیادت کی رہائی کے مطالبے پر کوئٹہ میں منعقدہ جلسے کے بعد دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر اور سابق صدر بلوچستان ہائی کورٹ بار ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے ثابت ہوگیا ہے کہ سردار اختر جان مینگل اور پارٹی قیادت کے خلاف مقدمہ بدنیتی پر مبنی تھا۔ ان کے بقول حکومت نے سیاسی دبا ڈالنے اور مخالف آوازوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی، تاہم ایسے مقدمات سے بی این پی اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوگی۔ساجد ترین ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرکے انہیں دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، لیکن ایسے ہتھکنڈوں سے عوامی آواز کو خاموش نہیں کیا






