کوئٹہ(ڈیلی آوازٹائمز)عوامی شکایات پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی خصوصی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں مہنگے داموں گوشت فروخت کرنے، کم وزن روٹی دینے اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بڑا کریک ڈان کیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق مختلف علاقوں میں کی گئی کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 48 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد 35 افراد کو جیل منتقل کر دیا گیا۔ متعدد دکانداروں کو موقع پر سخت وارننگ بھی جاری کی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی نے نواں کلی اور عالمو چوک کے علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے گوشت فروشوں اور نانبائیوں کا معائنہ کیا، جہاں خلاف ورزی پر 12 افراد کو گرفتار کیا گیا۔اسی طرح اسسٹنٹ کمشنر سٹی اور اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسیب کھوسہ نے گوالمنڈی اور کاسی روڈ پر گوشت کی دکانوں اور تندوروں کا اچانک معائنہ کیا، جہاں مہنگے داموں گوشت فروخت کرنے اور کم وزن روٹی دینے پر 14 افراد کو گرفتار کیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر کچلاک کیپٹن (ر) کبیر زرکون نے کچلاک بازار میں کارروائی کرتے ہوئے نرخنامے کی خلاف ورزی اور ناجائز منافع خوری میں ملوث 10 افراد کو گرفتار کیا، جبکہ دیگر دکانداروں کو سخت تنبیہ کی گئی۔دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر سریاب مصور احمد اچکزئی اور اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ نے سریاب سب ڈویژن کے مختلف بازاروں میں کارروائیاں کیں، جہاں قوانین کی خلاف ورزی پر 12 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوام کو معیاری اشیائے خوردونوش سرکاری نرخوں پر فراہم کرنا اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی عوام کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور مجسٹریٹس کو ہدایت کی ہے کہ بازاروں کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی جاری رکھی جائے اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، کم وزن روٹی اور مہنگے داموں اشیا فروخت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے






