گڈانی (ڈیلی آواز ٹائمز/یاسر ملازئی)تفصیلات کے مطابق چیف سیکریٹری بلوچستان کی ہدایت پر جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور لکڑی کی نقل و حمل کی روک تھام کے لیے ضلع لسبیلہ، حب اور دیگر علاقوں میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت جنگلات کی کٹائی اور لکڑی کی غیر قانونی منتقلی پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
تاہم دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود گزشتہ روز تقریباً تین بجے گڈانی موڑ سے آگے ایک ٹرک کو مبینہ طور پر لکڑی سے لدا ہوا دیکھا گیا، جو لکڑی ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کر رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق ٹرک کو آگے جا کر ماربل سٹی روڈ پولیس نے روکا، تاہم کچھ دیر بات چیت کے بعد مبینہ طور پر ٹرک کو جانے دیا گیا۔
یہ واقعہ کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر لکڑی گڈانی کی جانب سے لائی جا رہی تھی تو دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود گڈانی موڑ چیک پوسٹ سے یہ ٹرک کیسے گزر گیا؟ اور اگر ٹرک بلوچستان کے دوسرے علاقے کی جانب سے آ رہا تھا تو ڈی جی چیک پوسٹ پر اسے کیوں نہیں روکا گیا؟
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ اسی وقت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے جب متعلقہ چیک پوسٹوں اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے قانون پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔
دن کے وقت مبینہ طور پر لکڑی سے بھرا ٹرک مختلف چیک پوسٹوں سے گزرنے کا معاملہ انتظامیہ کی نگرانی اور قانون کے نفاذ پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کریں کہ لکڑی سے لدا ٹرک کہاں سے آیا، لکڑی کہاں منتقل کی جا رہی تھی، اور کن چیک پوسٹوں سے گزر کر یہ ٹرک آگے پہنچا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام اس مبینہ لکڑی کی اسمگلنگ کے معاملے پر کیا کارروائی کرتے ہیں اور دفعہ 144 کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کب اٹھائے جاتے ہیں۔






