اسلام آباد (روزنامہ آواز ٹائمز/جہانگیرخان) وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے مطالبہ کیا ہے کہ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کرائیں، قوم کا بتایا جائے کس طرح الیکشن کو چوری کیا گیا؟ ، 2018 میں ایک جھرلو الیکشن کرائے گئے ، ثاقب نثار نے الیکشن میں عمران خان کیلئے دھاندلی کا بازار گرم کیا ، میں ہر صورت ایوان کی رائے کے ساتھ کھڑا ہوں، یہ نہیں ہو سکتا کہ قانون بننے سے پہلے ہی اسے مسترد کر دیا جائے،پارلیمان کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا جا رہا ہے، عدلیہ کو آئین دوبارہ لکھنے کا کوئی اختیار نہیں، یہ قانون اور آئین کی خلاف وزری ہو رہی ہے، ہم 3 ججز کے فیصلے کو نہیں مانتے، ہم چار تین کے فیصلے کو مانتے ہیں ، اگر مجھے یہ گھر بھجوانا چاہتے ہیں تو تیار ہوں لیکن ایوان کا مان نہیں توڑوں گا، مذاکرات کا ایجنڈا پورے پاکستان میں ایک ہی روز الیکشن ہوگا، عدالت کو خیبرپختونخوا میں الیکشن کی کوئی فکر نہیں، عدالت کو صرف ایک صوبے میں الیکشن کی فکر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی سے اعتماد کاووٹ حاصل کر نے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں، ایک مرتبہ پھر معزز ایوان نے بلاول کی قرارداد پر مجھے 180 ووٹ دیئے، دل کی گہرائیوں سے سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں ،دل کی گہرائیوں سے سب کا شکریہ اداکرتا ہوں،آصف زرداری، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان کا شکر گزار ہوں،خالد مقبول صدیقی، اختر مینگل، خالد مگسی کا شکرگزار ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان شدید مشکلات میں ہے اور وہ میری وجہ سے یا اس ایوان کی وجہ سے نہیں بلکہ 2018 میں اس ملک کی معیشت دنیا میں مانی ہوئی تھی جو بہت تیزی سے ترقی کررہی تھی، اس کے بعد ایک الیکشن کے نتیجے میں آج ہر چیز سامنے آ چکی ہے کہ وہ فراڈ الیکشن کس طرح ہوئے، کس طرح جنوبی پنجاب کے کچھ لوگوں کو مجبور کیا گیا کہ آپ فلاں کے ٹکٹ چھوڑیں اور دوپٹہ پکڑ لیں۔ان کا کہنا تھا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ کس طرح آر ٹی ایس کو بند کروایا گیا اور پاکستان کی 75سالہ تاریخ گواہ ہے کہ شہروں کے نتائج ہمیشہ دیہاتوں سے جلدی آتے ہیں لیکن یہ تاریخ کا پہلا الیکشن تھا جس میں دیہاتوں کے نتائج چند گھنٹوں میں آنا شروع ہو گئے اور شہروں کے نتائج مہینوں التوا کا شکار ہوگئے اور جب گنتی کرانے کے لیے درخواست ڈالی گئی تو ایک شخص تھا جس کا نام تھا ثاقب نثار، اس نے حکم دے دیا کہ اس کے بعد کوئی گنتی نہیں ہو گی اور کیا کیا دھاندلی کے لیے انتظامات کیے گئے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جب آج ایوان نے مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ تو میں آپ کو وہ دن یاد دلانا چاہتا ہوں جب اسی فلور پر اسی وقت کی حکومت کے نمائندوں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اپوزیشن کے دھاندلی کے الزام کی مکمل تحقیق ہو گی، آج تک اس کی تحقیق نہیں ہوئی، پانچ سال گزرنے کو ہیں، میں مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ اس دھاندلی کی بھرپور تحقیقات کرائیں اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے دیں تاکہ قوم کو پتا لگے کہ کس طرح مینڈیٹ چرایا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کی آج تک تحقیقات نہیں ہوئی،اس وقت کے وزیراعظم نے دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کا وعدہ کیا تھا۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات ہو رہے تھے لیکن عمران خان کے اشارے پر دو وزرائے خزانہ سے کہا گیا کہ وہ شرائط نہ مانیں،وہ شرائط میرے یا آصف زرداری کے نہیں بلکہ ملک کیخلاف تھیں۔ وزیراعظم کا اس امید کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ روس سے جلد جہاز سستا تیل لیکر پاکستان آئے گا،امپورٹڈ حکومت ہوتی تو کیا روس ہمیں تیل دیتا؟ شہباز شریف نے یہ بھی بتایا کہ فیصلہ کیا ہے سینیٹ میں مذاکرات کیلئے اپنے نمائندے بھیجیں گے،بات چیت کا ایجنڈا پورے ملک میں ایک روز الیکشن ہو گا۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ مجھے گھر بھیجتے ہیں تو ہزار بار جانے کو تیار ہوں لیکن ایوان کا مان نہیں توڑوں گا،آئین سازی اور ترامیم پارلیمان کا اختیار ہے،پارلیمان کا اختیار کوئی اور استعمال نہیں کر سکتا،ہم تین ممبر بینچ کو نہیں مانتے،چار تین کے فیصلے کو مانتے ہیں۔۔شہباز شریف نے کہا کہ ایک پارٹی جمہوریت کی آڑ میں ڈکٹیٹر شپ، فاشزم لانا چاہتی ہے، پی ٹی آئی سے بات چیت سینیٹ میں ہوگی، سوچنا ہوگا پی ٹی آئی سے بات چیت کا ایجنڈا کیا ہوگا، پی ٹی آئی سے بات چیت کا واحد ایجنڈا ایک ہی روز عام انتخابات کا انعقاد ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کے پاس کوئی توپ یا ڈنڈا نہیں ہوتا، اتحادیوں نے پی ٹی آئی کے خلاف ڈٹ جانے کا مشورہ دیا، بات چیت سے متعلق اتحادیوں کی آراء مختلف تھی، بعض اتحادیوں نے جائز بنیاد پر پی ٹی آئی سے بات چیت کی مخالفت کی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ عدلیہ کے دہرے معیار نے پاکستان میں نظام عدل کو دفن کردیا، پارلیمان کے تقدس اور آئینی حیثیت کو چیلج کیا جا رہا ہے، ہمیں پہلے اپنے گریبان میں جھاکنا ہوگا، اپنا احتساب کریں پھر ہم سے پوچھیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ہماری حکومت کے خلاف سازش کا سلسلہ آج بھی جاری ہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات تیزی سے جاری تھے تو عمران نیازی کے اشارے پر دو صوبوں کی حکومتوں کو وفاقی حکومت کے خلاف مشکلات پیدا کرنے کا کہا گیا، پھر سائفر کا کہہ کر کس طرح امریکا کا نام لیا گیا اور ہماری حکومت کو امپورٹڈ حکومت کہا گیا۔ قبل ازیں وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی قرارداد پر وزیراعظم شہبازشریف پر 180 اراکین نے اعتماد کااظہار کیا،اعتماد کے ووٹ کی قرارداد منظور ہونے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے اتحادیوں کے پاس جا کر فرداً فرداً شکریہ ادا کیا.






