80فیصد میٹر ٹمپرنگ کے الزام پر نوابزادہ جمال رئیسانی کا سخت ردعمل

کوئٹہ(آوازٹائمز)پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے بلوچستان میں 80 فیصد گیس میٹر ٹمپرنگ سے متعلق سامنے آنے والے اعداد و شمار پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال بلوچستان کے ساتھ دہائیوں سے جاری ناانصافیوں کا واضح ثبوت ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر میٹر خراب یا چھیڑے گئے ہیں تو اس کی ذمہ داری صارفین کے ساتھ ساتھ ان اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے جو شفاف اور جدید میٹرنگ سسٹم فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس جی سی کے مطابق خوشحال طبقہ بھی گیس چوری میں ملوث ہے جبکہ کوئٹہ کو 180 کے مقابلے میں صرف 90 MMCFD گیس مل رہی ہے، تو اس کا تعلق ادارہ جاتی نااہلی سے ہے۔نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا کہ بار بار بلوچستان کو گیس چوری کے بیانیے میں لپیٹنا زیادتی ہے، “کب تک بلوچستان کے عوام لکڑیاں جلا کر گزارا کریں گے؟” انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متعلقہ اداروں کی یہی روش برقرار رہی تو عوام کے پاس سڑکوں پر احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ ناکافی سپلائی، ناقص انتظامی امور اور برسوں سے نظرانداز شدہ انفراسٹرکچر ہے، جس پر توجہ دیے بغیر حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔ نوابزادہ جمال رئیسانی نے اعلان کیا کہ وہ اس معاملے کو پارلیمان میں پوری قوت سے اٹھائیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں