پاکستان میں 2لاکھ 23 ہزار لڑکیاں فیس بک سے محبت کر کے مردوں کی ہوس کا نشانہ بنیں، رپورٹ

کوئٹہ (روزنامہ آواز ٹائمز) تازہ سروے کے مطابق 2018 سے لے کر2023 تک صرف پاکستان میں دولاکھ 23 ہزار لڑکیاں فیس بک سے محبت کر کے مردوں کی ہوس کا نشانہ بنیں اور تین لاکھ سے زیاده لڑکیوں نے اپنی نیو ڈیپی پکس اور ویڈیو لڑکوں کو دیں، 3 ہزار لڑکیاں ایسی ہیں جو محبت کے نام پہ ملنےگیئں اور لڑکوں نے الله کی قسم, ماما کی قسم, ڈیلیٹ کردوں گا کا ڈرامہ کر کے پورن ویڈیو بنائی اور بعد میں ان کو اس ویڈیو کے زریعے بلیک میل کیا.
بارہا اپنی ہوس پوری کی پیسے لیے اور دوستوں کی بھی ہوس پوری کروائی .
کتنی ہی لڑکیوں نے خودکشی کی.
کتنی ہی لڑکیوں کی ویڈیو اب بھی مختلف ویب سائٹ پہ گردش کررہی ہیں.
کتنے ایسے کیس ہیں جو رپورٹ ہی نھیں ہوتے اور ماں باپ اپنی عزت کے مارے اپنی بیٹیوں کو مار دیتے ہیں
کہتے ہیں انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور دوسروں کی غلطیوں سے بھی سیکھتا ہے
مگر افسوس یه ہے که اتنے کیس رپورٹ ہونے کے باوجود بھی لڑکیوں کو ہوش نھیں آیا
وه مسلسل اپنی عزت نیلام کرنے پہ تلی ہوئی ہیں
صرف اک جملے کے آسرے په کہ “میرے والا ایسا نھیں” اور جب سب کچھ لٹا بیٹھتی ھیں تو سمجھ آتی ہے که میرے والا بھی ایسا ہی گھٹیا ہے.

سوچنے کی بات یہ ہے کہ
اگر تیرے والا اتنا ہی اچھا ہوتا تو میرا رب نامحرم رشتے حلال قرار کر دیتا جب دیور, جیٹھ, سارے کزن, خالو, پھوپھا جیسے رشتے جن کو آپ جانتی ہیں ان کو نامحرم قرار کر دیا
تو آپ سوشل میڈیا په گردش کرتے مردوں پہ کیسے بھروسه کرسکتی ہیں؟
اس پر لکھنے کو بھت کچھ ہے مگر فائده کوئی نھیں, کیوں که اب لڑکیوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا یوز کررہی ہے
آپ کو بھی حالات کی سنگینی کا اچھے سے علم ہے.

اگر آپ کسی کو اچھا سمجھ کے دوستی یا محبت کررہی ہیں تو یه آپ کی زمے داری ہے .
اور مرد کی نفسانی خواہش کا اندازه اس بات سے لگایا جاسکتا ہے که اس کو چار شادیون تک کی بیک وقت اجازت ہے
مرد کے مقابلے میں عورت کی زمے داری زیاده ہے که وه اپنے آپ کو بچا کے رکھے
تو یاد رکھیں چاہے سوشل میڈیا ہو یا ریئل لائف آپ سب ہی محفوظ ہیں جب تک کہ آپ کے لہجے میں کسی نامحرم کے لیے کوئی نرمی نہ ہو.

اپنے آپ پر احسان کرو اپنا آپ کو بچالو 🙏

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں