ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس تضادات کا مجموعہ تھی، پی ٹی آئی

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف نے سانحہ 9مئی کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ مطالبہ ہم بہت پہلے سے کہہ رہے ہیں ۔پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کو تضادات کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ جو کہہ رہے ہیں اس کے ثبوت عوام کے سامنے لے آئیں۔منگل کے روز مرکزی سیکٹریٹ میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رائوف حسن اور انتظار پنجوتھہ ایڈوکیٹ نے کہاکہ پی ٹی آئی کو ٹارگٹ کرنے کی کوششیں کافی عرصے سے ہورہی ہیں مگر حالیہ پریس کانفرنس میں بہت زیادہ زہر نظر آرہا ہے انہوںنے کہاکہ آج کی پریس کانفرنس نہ تو ریاست کیلئے ٹھیک ہے اور نہی ہی معاشرے کیلئے ٹھیک ہے اور اس نے ریاست اور عوام کے مابین تعلق کو بری طرح سے نقصان پہنچایا ہے انہوںنے کہاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس تضادات سے بھرپور تھی اور ہمیں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ ان کی فرسٹریشن کیوں ہے اور وہ اس قسم کے بیانات کیوں دے رہے ہیں انہوںنے کہاکہ سب سے زیادہ مضحکہ خیز بات یہ کی کہ اس وقت ملک میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے اس ملک میں تو جمہوریت موجود ہی نہیں ہے اور ایک شخص کی آمریت میں ملک چل رہا ہے اور یہ زیادہ دیر تک چل نہیں سکتا ہے انہوں نے کہاکہ پریس کانفرنس میں جو باتیں کہی گئی ہیں اس کا مطالبہ ہم بھی کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ جو بھی کہا گیا ہے اس پر ان کو چیلنج کرتے ہیں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عوام کے سامنے ثبوت لیکر آئیں ہم نے 9مئی کے فوراً بعد مطالبہ کیا کہ تمام واقعات کی جوڈیشیل انکوائری کی جائے تاکہ اس کا تعین کیا جاسکے کہ یہ واقعات کیوں ہوئے ہیں انہوںنے کہاکہ ہم مانتے ہیں کہ جوڈیشیل کمیشن تمام واقعات کی تحقیقات کرے ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ جوڈیشیل کمیشن سائفر معاملات سمیت عمران خان پر حملے ،آڈیو لیکس،8فروری کے انتخابات سمیت دیگر واقعات کی بھی تحقیقات کرے انہوںنے کہاکہ اب ڈی جی آئی ایس پی آر نے خود کہا ہے کہ جوڈیشیل کمیشن قائم کیا جائے ہم اس مطالبے کی حمایت کرتے ہیں تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ ان واقعات کے ذمہ دار کون ہیں انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی کے کارکنوں اور عہدیداروں کو کچھ عرصے تک غائب کیا گیا او رانہیں عدالتوں سمیت کسی بھی فورم پر پیش نہیں کیا گیا اس کی بھی تحقیقات کی جائیں انہوںنے کہاکہ جوڈیشیل کمیشن کیلئے ٹی آو آرز طے کئے جائیں اور یہ جوڈیشیل کمیشن فوج کے طابع نہیں بلکہ آزاد ہونے چاہیے انہوںنے کہاکہ ہمیں وہ تمام فوٹیجز دکھائے جائیں جو کسی بھی ادارے پر حملے اور خان صاحب کی گرفتاری کے وقت کے ہیں انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے اس ملک میں ہر وہ شواہد مٹا دئیے جاتے ہیں جو کسی کی بے گناہی ثابت کرتے ہیں انہوںنے کہاکہ کسی ایک شخص کے کہنے سے پی ٹی آئی کو دہشت گردی نہیں قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی عوام اس کو تسلیم کرے گی انہوںنے کہاکہ یہ کس قسم کا پراپیگنڈہ ہے جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے انہوںنے کہاکہ چیلنج کرتا ہوں کہ اپنی پارٹیوں کو نکالیں کہ دو ہزار بندے اسلام آباد میں جمع کریں میں اس کے مقابلے میں دو لاکھ جمع کرکے دونگا انہوںنے کہاکہ کہیں تو سچ بولیں انہوں نے کہاکہ پریس کانفرنس میں پاکستان کے نظام انصاف کی بات کی گئی ہے چھ ججز کے خط کے معاملے پر بھی کمیشن تشکیل دیا جائے جو کو چیف جسٹس کسی نہ کسی طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہوںنے کہاکہ چیف جسٹس کہتے ہیں کہ کمشنر جھوٹ بول رہے ہیں بتایا جائے کہ کمشنر اس وقت کہاں پر ہیں انہوںنے کہاکہ ہمیں کوئی خوف نہیں ہے اور ہم عوام میں جاتے ہیں آپ بھی زرا اپنی پارٹیوں کو عوام میں جانے کا کہیں انہوں نے کہاکہ بتایا جائے کہ کس نے ملک کو گذشتہ دو سالوں سے اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا ہے اور ملک کو لوٹیروں کے سپرد کیا ہے کیا یہ پارٹیاں اپنے تئیں الیکشن جیت سکتی ہیں انہوںنے کہاکہ یہ کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے فوج کے خلاف ایک بیانیہ بنایا ہے پی ٹی آئی کے بانی نے بارہا فوج کو اپنی فوج کہا ہے کیا وجہ ہے کہ ان کو ہمارے چہروں میں دہشت گردی نظر آتی ہے انہوںنے کہاکہ ہم اس ملک سے کہیں جانے والے نہیں ہیں اور ملک کی خاطر یہ لڑائی لڑتے رہیں گے انہوں نے کہاکہ ہمارے جلسوں میں ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹا ہے ہم انتشار نہیں پھیلا رہے ہیں اصل میں انتشار پھیلانے کے ذمہ دار یہ لوگ ہیں جو ہمیں کہہ رہے ہیں انہوںنے کہاکہ پاکستان ہم سب کا ہے اور اس ملک کو بچانا اور ترقی کی سمت لے جانا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اسی لیے ہم سب نے آمن کا راستہ اپنایا ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہم پر آمن رہیں اور جو بھٹکے ہوئے ہیں وہ بھی سیدھی راہ پر آجائے اس ملک کو لازمی طو رپر انصاف ،قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی سمت آنا ہوگا اس کے علاوہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کا کوئی راستہ نہیں ہے انہوں نے کہاکہ یہ سچائی ہے اور ہم سچ بولتے رہیں گے اس موقع پر نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی 28سالہ جدوجہد میں ایک دن بھی ایسا نہیں ہے کہ پی ٹی آئی نے ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی ہو انہوں نے کہاکہ بانی چیرمین جوڈیشیل کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں انہوںنے کہاکہ بتایا جائے کہ کس نے بانی پی ٹی آئی کو ہائیکورٹ سے اغوا کرنے کی کوشش کی انہوں نے کہاکہ ایک جانب میاں نوازشریف کے کیسز ہیں جن کو بھونڈے طریقے سے ختم کیا جارہا ہے اسی طرح زرداری صاحب کے کیسز بھی چھوڑ دئیے گئے ہیں مگر عمران خان کے خلاف کیسز بنائے جارہے ہیں میں چیرمین نیب سے سوال پوچھتا ہوں کہ کیا ان کو گندم کا سکیم نظر نہیں آرہا ہے کیا یہ طاقتور لوگوں نے کیا ہے اور جن کی سرپرستی کی جارہی ہیے انہوںنے کہاکہ کیا نیب کا ادارہ صرف بانی پی ٹی آئی کیلئے رہ گیا ہے اور کسی جانب توجہ نہیں دی جارہی ہے انہوںنے کہاکہ بانی پی ٹی آئی نے گندم بحران پرکہا ہے کہ بحران سے واضح ہوتا ہے کہ میڈیا پر کتنی سخت پابندیاں ہیں اگر یہ پابندیاں نہ ہوں تو مذید کئی سکینڈل سامنے آسکتے ہیں کون چیرمین نیب کو جگائے گا انہوںنے کہا کہ اگر واقعی9مئی کے واقعات میں پی ٹی آئی ملوث ہوتی تو عوام ان کو ووٹ نہ دیتی کیا یہ عوام دہشت گرد ہیں پی ٹی آئی انتشار نہیں پھیلا رہی بلکہ عوام کو اس کے حقوق کے بارے میں بتا رہی ہے انہوںنے کہاکہ جب تک جنگل کا بادشاہ نہیں ہٹے گا اس وقت تک ملک اپنے ٹریک پر نہیں آسکتا ہے اس موقع پر پنجوتھہ نے کہاکہ جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چھپائی ہا ہٹائی ہے وہ اس تمام سانحے کا ذمہ دار ہے انہوںنے کہاکہ جس دن عمران خان نے ہائیکورٹ میں پیش ہونا تھا اور بائیو میٹرک کرا رہے تھے تو اس کو گیٹ پر اتار کر وہیل چیئر پر لے جایا گیا انہوں نے کہاکہ ہمارے لیڈر کو بائیو میٹرک کے کمرے سے شیشے توڑ کر اغوا کیا گیا ان لوگوں کے خلاف کیا کاروائی ہوئی ہے انہوںنے کہاکہ سی سی ٹی فوٹیجز جان بوجھ کر چھپائے گئے ہیں اور پی ٹی آئی کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی گئی انہوںنے کہاکہ ہم گذشتہ ایک سال سے جوڈیشیل کمیشن کا مطالبہ کرتے ہیں اور یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ 9مئی کی آڑ میں جو تشدد کیا گیا اور پارٹی کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اس کی بھی تحقیقات کی جائیں انہوںنے کہاکہ جن لوگوں نے پریس کانفرنس کرکے پارٹی چھوڑی ہے وہ آزاد ہیں مگر جو بھی بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے انہوںنے کہاکہ ملٹری کی کسٹڈی میں ہمارے کارکنوں پر تشدد کیا جارہا ہے انہوںنے کہاکہ ابھی تو عدالتوں میں کیسز چل رہے ہیں اور کچھ بھی ثابت نہیں ہوا ہے مگر پی ٹی آئی کو ملک دشمن قرار دیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ ایک کرنل صاحب جج بنے ہوئے اور کسی کو بھی فیئر ٹرائل کا موقع نہیں دیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ ہم جوڈیشیل کمیشن کیلئے تیار ہیں اور اس پر فیصلہ دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں