حب (ڈیلی آواز ٹائمز/نیاز اللہ سمالانی) بلوچستان کے صنعتی شہر حب کے علاقے چیزل آباد میں سیوریج لائن کی تنصیب کا منصوبہ مبینہ طور پر ناقص منصوبہ بندی اور ٹھیکیدار کی غفلت کا شکار ہوگیا ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے سیوریج لائن کے بڑے بڑے پائپ سڑک کنارے بے یار و مددگار پڑے ہیں، جبکہ متعلقہ ٹھیکیدار بھی غائب ہے۔مقامی شہریوں کے مطابق طویل عرصے سے پائپ اسی حالت میں پڑے رہنے کے باعث متعدد پائپ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکے ہیں، جس سے سرکاری وسائل کے ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ پائپوں کے باعث راستوں پر آمدورفت بھی متاثر ہو رہی ہے اور علاقے میں گندگی و بے ترتیبی کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جارہی ہے۔شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ سیوریج منصوبے کے نام پر لاکھوں روپے کے پائپ لاکر دو ماہ تک کھلے آسمان تلے کیوں چھوڑے گئے؟ اگر پائپ خراب ہوگئے تو اس نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا؟اہل علاقہ نے ڈپٹی کمشنر حب، میونسپل کارپوریشن اور متعلقہ محکمے کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، منصوبے کی پیش رفت اور معیار کی جانچ پڑتال کرنے اور غفلت کے مرتکب ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبے عوام کی سہولت کے لیے ہوتے ہیں، سرکاری سامان کو سڑکوں پر ضائع کرنے کے لیے نہیں۔ حکام فوری طور پر موقع کا معائنہ کرکے سیوریج لائن کا کام مکمل کرائیں اور پائپوں کو مزید نقصان سے بچائیں۔






