ڈسٹرکٹ چیئرمین عبدالودود سنجرانی کی بارڈر ٹریڈ میں نرمی اور راجے کراسنگ جلد کھولنے کی درخواست

نوکنڈی(آوازٹائمز)برگیڈیئر تفتان رائفلز نوکنڈی عامر خان خلیل کی سربراہی میں ایک اہم علاقائی جرگہ اور کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈسٹرکٹ چیئرمین خان عبدالودود خان سنجرانی، اسسٹنٹ کمشنر نعیم قاسم شاہوانی، ڈی ایس پی پولیس، ایس ایچ او نوکنڈی، افسران، سیاسی و قبائلی عمائدین اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔جرگے سے خطاب کرتے ہوئے برگیڈیئر عامر خان خلیل نے کہا کہ افغانستان کے حالات بہتر ہوچکے ہیں، اس لیے افغان مہاجرین کی وطن واپسی ناگزیر ہے۔ پاکستان نے چالیس برس تک مہاجرین کی میزبانی کی، اب ان کی باعزت واپسی کے لیے حکومت اور ادارے دن رات کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن افراد نے اپنے مکانات یا دکانیں افغان مہاجرین کو کرائے پر دے رکھی ہیں وہ انہیں خالی کرائیں، کیونکہ یہ حکومتی پالیسی پر عملدرآمد کا حصہ ہے۔راجے کراسنگ کے حوالے سے برگیڈیئر عامر خلیل نے بتایا کہ وہاں حفاظتی اسکینرز کی تنصیب جاری ہے، جیسے ہی کام مکمل ہوگا، کراسنگ کھولنے کی تاریخ مقرر کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی بے روزگاری کا مکمل احساس ہے اور کوشش ہے کہ مقامی لوگوں کو ریلیف دیا جائے۔ڈسٹرکٹ چیئرمین خان عبدالودود خان سنجرانی نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع چاغی کے عوام کا روزگار بارڈر ٹریڈ سے وابستہ ہے، اس لیے تجارتی سرگرمیوں میں نرمی برتی جائے تاکہ عوام قانونی اور آزادانہ تجارت کرسکیں۔ انہوں نے راجے کراسنگ کے جلد کھولنے اور اس کے دائرہ کار کو پورے ضلع تک وسعت دینے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے برگیڈیئر عامر خان خلیل کو عوام دوست افسر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششیں نوکنڈی اور تفتان کے عوام کے مفاد میں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ضبط شدہ گاڑیوں کے ریلیز آرڈر جلد جاری ہوں گے۔ چیئرمین نے کہا کہ ایم پی اے چاغی محمد صادق خان سنجرانی اور رہبر چاغی میر اعجاز خان سنجرانی بھی عوامی مسائل کے حل کے لیے بھرپور جدوجہد کر رہے ہیں تاکہ قانونی تجارت کے فروغ سے بے روزگاری کا خاتمہ اور امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں