ملک آئین کے تحت نہیں چلے گا تو اس کی فاتحہ پڑھ لیں، محمود خان اچکزئی

کوئٹہ(آوازٹائمز)تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے ملک آئین کے تحت نہیں چلے گا تو اس کی فاتحہ پڑھ لیں آئین کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، سیاسی جماعتیں مشترکہ سوشل کنٹریکٹ طے کریں آئین کی روح قربان نہ کی جائے، سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات ترک کر کے قومی کنونشن بلائیں پی ڈی ایم محض اقتدار کی جگہ لینے کا ذریعہ بنے تو میں شریک نہیں، آئین کی حفاظت اولین ترجیح ہے اسٹیبلشمنٹ آئین کے دائرے میں رہے، پانچویں صوبہ اور اسٹریٹیجک ڈیپتھ پالیسیاں دفن کی جائیں اگر اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے ساتھ وفادار ہے تو آئینی راستہ دیا جائے؛ ڈنڈا اٹھانے سے ملک برباد ہوگاافغانستان کی بربادی میں روس، امریکہ اور ان کے اتحادی ذمہ دار، مشترکہ قومی کنونشن کی ضرور ت ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے خصوصی اینٹرویو میں کہی محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کو آئین کے دائرے میں رہ کر ہی چلایا جا سکتا ہے اور اگر آئین کی روح کو نظر انداز کیا گیا تو ملک تباہی کی طرف جائے گا۔اچکزئی نے مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک مشترکہ سوشل کنٹریکٹ پر متفق ہوں اور بنیادی آئینی اصولوں، پارلیمنٹ کی بالادستی، ووٹ کی حرمت اور وسائل پر وفاقی و صوبائی حقوق کے حوالے سے واضح لائحہ عمل مرتب کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ڈی ایم کا مقصد صرف اقتدار کا تبادلہ یا کسی ایک فرد کی جگہ دوسرے کو بٹھانا ہے تو وہ اس میں شامل نہیں ہوں گے؛ البتہ اگر اتحاد کا مقصد جمہوری اور آئینی اصلاحات ہے تو وہ شمولیت کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے نو منتخب لیڈرِ اپوزیشن کی آفیشل نوٹیفکیشن میں تاخیر، 27ویں آئینی ترمیم اور سیاسی قیادت کے کردار پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اچکزئی نے کہا کہ آئین رضا مندی اور باہمی مفاہمت کی بنیاد پر بنایا گیا ہے اور جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز آئینی فریم ورک کو قبول نہیں کریں گے، مسائل حل نہیں ہوں گے۔قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے انہوں نے تمام اداروں، سیاستدانوں، عدلیہ، فوج، صحافت اور عوامی نمائندوں پر مشتمل ایک قومی کنونشن بلانے کی تجویز دہرائی تاکہ ایک مشترکہ قومی ایجنڈا مرتب کیا جا سکے۔ انہوں نے سیاسی رہنماں سے اپیل کی کہ ذاتی اور گروہی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ملک کے آئینی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کریں۔اچکزئی نے واضح کیا کہ آئین کی پاسداری اور پارلیمانی اصولوں کی بقا ہی قوم کو درپیش بحران سے نکال سکتی ہے، ورنہ ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا ہوگا۔انہوں نے کہا ہے کہ آئین کی حرمت اور اس کی روح کو مقدم رکھا جائے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آئین کو محض کاغذ تک محدود کر دیا گیا ہے اور عوام میں اس سے لاتعلقی یا دشمنی پھیلتی جا رہی ہے پیپلز پارٹی کے کریڈنشلز کا صرف ایک مضبوط نقطہ ذوالفقار علی بھٹو کا نام رہا، مگر آج اگر ذوالفقار علی بھٹو کے نظریات کے حقیقی پاسدار ہیں تو انہیں آئین کی بالادستی کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے بلاول بھٹو کو داد دی مگر کہا کہ اگر پیپلز پارٹی آئین کی حفاظت کے لیے سنجیدہ نہیں تو پھر اس کا کوئی مطلب نہیں۔انہوں نے سیاسی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نواز شریف جیسے رہنماں کے گھر سے اٹھنے والی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں