کوئٹہ(آوازٹائمز)بلوچستان ہائیکورٹ نے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو جسٹس آف پیس مقرر کرنے کے حکومتی اقدام پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔ یہ حکم چیف جسٹس بلوچستان جناب جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس جناب گل حسن ترین پر مشتمل دو رکنی بنچ نے آئینی درخواست نمبر 13 اور 19/2026 کی سماعت کے دوران جاری کیا۔درخواست نمبر 13/2026 میں رحیب خان بولیدی ایڈووکیٹ، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی بلوچستان بار کونسل جبکہ درخواست نمبر 19/2026 میں افتخار احمد لانگو اور عبدال بصیر کاکڑ ایڈووکیٹس نے حکومت بلوچستان کے نوٹیفکیشن نمبر SO(Judl:)2(1)/2025/2094-2125 مورخہ 30 دسمبر 2025 کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت صوبے بھر کے ڈویژنل کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ان کے متعلقہ دائرہ اختیار میں جسٹس آف پیس مقرر کیا گیا تھا اور انہیں دفعہ 22-A اور 22-B ضابطہ فوجداری کے اختیارات دیے گئے تھے۔درخواست گزاروں نے مقف اختیار کیا کہ یہ نوٹیفکیشن چیف جسٹس بلوچستان سے مشاورت کے بغیر جاری کیا گیا جو آئین کے آرٹیکل 175(3)، 202 اور 203 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 25 کے تحت سیشن ججز اور نامزد ایڈیشنل سیشن ججز پہلے ہی ایکس آفیشو جسٹس آف پیس کے فرائض انجام دے رہے ہیں، لہذا ایگزیکٹو افسران کو عدالتی اختیارات دینا آئینی اختیارات کی تقسیم کے اصول کے منافی اور عدلیہ کی آزادی پر قدغن کے مترادف ہے۔درخواست گزاروں کے مطابق اگرچہ دفعہ 22 ضابطہ فوجداری حکومت کو جسٹس آف پیس مقرر کرنے کا اختیار دیتی ہے، تاہم اس کے لیے واضح قواعد و ضوابط کا ہونا لازم ہے، جبکہ موجودہ نوٹیفکیشن کے ذریعے ایگزیکٹو کو عدالتی اختیارات سونپ کر متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔عدالت نے دلائل کو قابلِ غور قرار دیتے ہوئے درخواستیں منظورِ سماعت کرلیں، فریقین کو نوٹس جاری کر دیے اور حکم دیا کہ مذکورہ نوٹیفکیشن پر آئندہ سماعت تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ عدالتی حکم کی کاپی ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفتر کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مقدمہ سرمائی تعطیلات کے فورا بعد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا






