حب، آوارہ کتوں‌کی بہتات، شہریوں‌کی زندگی اجیرن بنادی

حب (ڈیلی آواز ٹائمز/نیاز اللہ سمالانی) بلوچ خان رند کالونی میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ گلیوں اور محلوں میں آوارہ کتوں کے جھنڈ آزادانہ گھوم رہے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کی مبینہ غفلت کے باعث صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے۔خصوصاً جامع مسجد اقصیٰ کے اطراف کی گلیوں میں صبح کے اوقات میں آوارہ کتوں کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے، جس کے باعث نماز کے لیے آنے والے نمازیوں، بچوں، خواتین اور بزرگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کے حملوں کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے اور کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔شہریوں کے مطابق گزشتہ روز بھی ایک آوارہ کتے نے ایک معصوم بچے کو کاٹ لیا، جس کے نتیجے میں بچہ زخمی ہوگیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو آوارہ کتوں کے حملوں سے مزید بچے اور شہری متاثر ہوسکتے ہیں۔علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان مندوخیل، میونسپل کارپوریشن حب کے چیئرمین گل حسن محمد حسنی اور چیف آفیسر نجمد الدین سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچ خان رند کالونی سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں فوری طور پر مؤثر اور مستقل آوارہ کتوں کی تلفی/کنٹرول مہم شروع کی جائے۔شہریوں نے واضح کیا کہ محض اعلانات اور وقتی کارروائیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ متعلقہ اداروں کو عملی اقدامات کرتے ہوئے آوارہ کتوں کے خلاف منظم مہم چلانا ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلی محلوں، مساجد اور رہائشی علاقوں میں خصوصی ٹیمیں بھیجی جائیں تاکہ شہریوں، بالخصوص بچوں اور بزرگوں کو آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔علاقہ مکینوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن حب سے مطالبہ کیا کہ خطرناک آوارہ کتوں کے خلاف فوری، مؤثر اور مستقل کارروائی کرکے شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے.

کیٹاگری میں : حب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں