شہید عرفان اللہ خان کاکڑ ایک روشن یاد، ایک لازوال قربانی

13 اگست 2024 کا دن کوئٹہ کی تاریخ میں ایک المناک سانحے کی صورت میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یومِ آزادی کی آمد کے موقع پر چائنہ مارکیٹ میں جہاں سبز ہلالی پرچموں اور جھنڈیوں کی خریداری کے باعث بازار میں رونق تھی، وہیں اچانک ایک خوفناک دھماکے نے خوشیوں کے ماحول کو غم اور سوگ میں بدل دیا۔
اس افسوسناک سانحے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ کلی خنائی بابا سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد عرفان اللہ خان کاکڑ ولد مرحوم حاجی امان اللہ خان کاکڑ شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ آج اُن کی شہادت کو دو برس مکمل ہونے پر ہم اُن کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے اُن کی قربانی، شخصیت اور روشن کردار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
ایک ہونہار نوجوان کی زندگی
شہید عرفان اللہ خان کاکڑ 9 مئی 2002 کو کلی خنائی بابا میں مرحوم حاجی امان اللہ خان کاکڑ کے گھر میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے والد کے ہونہار فرزند اور اپنے بھائیوں نثار احمد، اظہار احمد، ثناء اللہ، زین اللہ، صداقت اللہ، سمیع اللہ، مطیع اللہ اور عنایت اللہ کے پیارے بھائی تھے۔
عرفان اللہ خان کاکڑ ایک نیک سیرت، خوش اخلاق، محنتی اور تعلیم کا شوق رکھنے والے نوجوان تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے کلی خنائی بابا سے حاصل کی، میٹرک گورنمنٹ ہائی اسکول بوستان سے کیا جبکہ ایف اے/ایف ایس سی کی تعلیم گورنمنٹ سائنس کالج سے حاصل کی۔
اُن کے دل میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور زندگی میں آگے بڑھنے کے بڑے خواب تھے۔ وہ بلوچستان یونیورسٹی میں مزید تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، مگر زندگی نے اُنہیں یہ موقع نہ دیا۔
سانحہ چائنہ مارکیٹ — وہ دن جو کبھی نہیں بھولے گا
13 اگست 2024 کو عرفان اللہ خان اپنے بھائیوں کے ہمراہ گاؤں سے کوئٹہ آئے تھے۔ چائنہ مارکیٹ میں یومِ آزادی کی مناسبت سے کاروباری سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ ہر طرف سبز ہلالی پرچم، جھنڈیاں اور وطن سے محبت کا اظہار نظر آ رہا تھا۔
لیکن اچانک ہونے والے دھماکے نے چند لمحوں میں پورے ماحول کو سوگ میں بدل دیا۔ عرفان اللہ خان کاکڑ اس سانحے میں شہید ہوگئے، جبکہ دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔
یہ خبر جب اُن کے آبائی گاؤں کلی خنائی بابا پہنچی تو ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل غمزدہ ہوگیا۔ ایک ہنستا مسکراتا نوجوان، جس کے خاندان اور مستقبل کے لیے بے شمار خواب تھے، ہمیشہ کے لیے اپنے رب کے حضور چلا گیا۔
آخری سفر
شہید عرفان اللہ خان کاکڑ کو 13 اگست 2024 کی رات تقریباً 10 بجے اُن کے آبائی قبرستان کلی خنائی بابا میں سپردِ خاک کیا گیا۔ نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر بڑی تعداد میں عزیز و اقارب، دوست احباب اور اہلِ علاقہ شریک ہوئے۔
اُس رات کلی خنائی بابا میں ہر طرف غم کی کیفیت تھی۔
دو برس بعد بھی یاد زندہ ہے
وقت گزر جاتا ہے، مگر کچھ لوگ وقت کے ساتھ یادوں سے محو نہیں ہوتے۔ عرفان اللہ خان کاکڑ بھی اُنہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔
اُن کی مسکراہٹ، اُن کا اخلاق، اُن کے خواب، اُن کی محنت اور اُن کی اچانک جدائی آج بھی اُن کے اہلِ خانہ اور دوستوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
شہید عرفان اللہ خان کاکڑ کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان کی اصل پہچان اُس کی عمر نہیں بلکہ اُس کا کردار، اُس کی نیت اور اُس کے چھوڑے ہوئے اچھے اثرات ہوتے ہیں۔
وہ ایک ایسا خواب تھے جو وقت سے پہلے مٹی اوڑھ گیا، مگر اُن کی یاد آج بھی اُن کے خاندان، علاقے اور اُن سے محبت کرنے والوں کے دلوں میں روشن ہے۔
شہید کی یاد، ہماری ذمہ داری
شہیدوں کو یاد کرنا صرف ایک رسم نہیں بلکہ اُن کے اہلِ خانہ کے دکھ میں شریک ہونا اور اُن کی قربانی کو عزت دینا بھی ہے۔ عرفان اللہ خان کاکڑ کے خاندان نے جس صبر اور حوصلے کے ساتھ یہ ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کیا، وہ قابلِ احترام ہے۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شہید عرفان اللہ خان کاکڑ کے درجات بلند فرمائے، اُن کی قبر کو نور سے بھر دے، اُن کے والدین، بھائیوں اور تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور وطنِ عزیز کو ہر قسم کے ظلم، دہشت اور بدامنی سے محفوظ رکھے۔
شہید عرفان اللہ خان کاکڑ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
یادگاری کلمات
کچھ لوگ رخصت ہو کر بھی رخصت نہیں ہوتے،
وہ اپنی یادوں، کردار اور قربانی کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
عرفان اللہ خان کاکڑ بھی ایک ایسی ہی روشن یاد ہیں۔
اِنّا لِلّٰهِ وَإِنّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

تحریر: نقیب اللہ کاکڑ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں