سیرتِ طیبہ بیان کرنے کے لیے علماءِ کرام نے ہمیشہ خوبصورت اور منفرد الفاظ کا انتخاب کیا ہے، مگر سچی بات یہ ہے کہ کوئی بھی اس عظیم ہستی ﷺ کی سیرت کا مکمل حق ادا نہیں کر سکتا۔ آج ہم سیرتِ نبوی ﷺ کو ایک اور عنوان سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت کا اپنے محبوب ﷺ کو دنیا میں مبعوث فرمانا کس قدر عظیم اور بے مثال انتخاب تھا۔اس بات کو ایک مثال سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی ماں مال و دولت رکھنے والی ہو اور اسے اپنی بیٹی کے لیے جہیز تیار کرنا ہو تو محبت کی وجہ سے وہ اپنی بیٹی کے لیے ہر چیز بہترین منتخب کرے گی۔ فرنیچر بہترین ہوگا، کپڑے بہترین ہوں گے، زیورات بہترین ہوں گے، گاڑی بہترین ہوگی اور اگر بیٹی کے لیے رشتہ تلاش کرے گی تو بہترین رشتہ تلاش کرے گی۔ یعنی اپنی بیٹی کے لیے ہر چیز کا انتخاب بہتر سے بہتر ہوگا۔اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے ذرا غور کریں کہ اللہ رب العزت نے جب اپنے پیارے حبیب، آقائے دو جہاں، سرکارِ دو عالم، امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو دنیا میں مبعوث فرمایا تو اپنے محبوب ﷺ کے لیے بہترین چیزوں کا انتخاب فرمایا۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو عطا فرمایا، وہ سب سے افضل اور بہترین تھا۔ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس، اخلاق، کردار، تعلیمات اور سیرت پوری انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے۔اسی طرح اسلام نے حقوق العباد پر بھی بہت زور دیا ہے۔ انسانی حقوق میں بعض ایسے حقوق ہیں جو ہر انسان کے دوسرے انسان پر عائد ہوتے ہیں، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، نیک ہو یا بدکار۔ ان میں سے چند اہم حقوق یہ ہیں:(1)۔ جان و مال کا تحفظ:
بلاوجہ کسی انسان کی جان یا مال کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور کسی پر ظلم و زیادتی نہ کی جائے۔(2)۔ حسنِ اخلاق:کسی انسان کے ساتھ بلاشرعی وجہ بدزبانی، سخت کلامی اور توہین آمیز رویہ اختیار نہ کیا جائے۔(3)- مصیبت زدہ انسان کی مدد:اگر کسی شخص کو مصیبت میں مبتلا دیکھیں، یا کوئی بھوک، پیاس یا بیماری کا شکار ہو تو اس کی حتی المقدور مدد کی جائے۔ اسے کھانا اور پانی فراہم کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر علاج کا انتظام کیا جائے۔(4)۔ قرض کی ادائیگی:اگر کسی مسلمان یا انسان سے قرض لیا ہے تو اسے وقت پر ادا کرنا چاہیے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مومن کی روح اس کے قرض کی وجہ سے رکی رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کا قرض ادا کر دیا جائے۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شہید کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، سوائے قرض کے۔ان احادیثِ مبارکہ سے ہمیں یہ اہم سبق ملتا ہے کہ ہمیں کسی انسان کا حق نہیں مارنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے حقوق سے متعلق اپنے فضل و کرم سے معافی عطا فرما سکتا ہے لیکن حقوق العباد کا معاملہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک متعلقہ شخص کا حق ادا نہ کیا جائے یا وہ خود معاف نہ کر دے-لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات کا جائزہلیں، کسی کا حق نہ ماریں کسی پر ظلم نہ کریں قرض ادا کریں ضرورت مندوں کی مدد کریں اور اپنے قول و فعل سے دوسروں کے حقوق کا احترام کریں۔سیرتِ طیبہ ﷺ ہمیں یہی درس دیتی ہے کہ ایک بہترین مسلمان وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق بھی ادا کرے۔اگر ہم حقیقی معنوں میں عشقِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں آپ ﷺ کی تعلیمات اور اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ یہی سیرتِ نبوی ﷺ کا حقیقی پیغام اور انسانی حقوق کی پاسداری کا بہترین راستہ ہے.
تحریر: نیاز اللہ سمالانی








