کوئٹہ(روزنامہ آواز ٹائمز/شعبہ جیل خانہ جات) آئی جی جیل خانہ جات بلوچستان شجاع الدین کاسی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی 12 جیلوں میں 3000 مختلف جرائم کے قیدی مقید ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جیلوں کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے 4 جیلوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔
باقی جیلوں میں بھی نصب کررہے ہیں قیدیوں کے علاج معالجے کے لئے 4 لیڈی ڈاکٹروں سمیت 18ڈاکٹرز تعینات کئے گئے ہیں۔ جیل پولیس کے 21 ملازمین اور آفیسران نے شہادت کا رتبہ پایا ہے جن میں سے شہداءکی فیملی سے ہم نے 11 لوگوں کو روزگار دیا ہے 9 کی تعیناتی کے لئے ان کے کیسز پراسس میں ہےں جیلوں میں تقریباً 8 قیدی ایڈز اور ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں جن کا علاج کیا جارہا ہے ۔
گفتگو کرتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات کا کہنا تھا کہ صوبے کی 4 جیلوں کوئٹہ ، مچھ، خضدار اور گڈانی جیل میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کے گئے ہیں باقی جیلوں میں کیمروں کی تنصیب کے لئے حکومت اقدامات اٹھارہی ہے اس وقت صوبے کے 12 جیلوں میں 3 ہزار قیدی مقید ہیں اور جیلوں میں 3200 قیدیوں کی گنجائش ہے قیدیوں میں سزائے موت ، عمر قید سمیت دیگر سزا یافتہ قیدی ہیں۔ 2017ءمیں صولت مرزا کو پھانسی کے بعد کسی بھی قیدی کو پھانسی نہیں دی گئی۔ اس وقت قیدی موجود ہیں حکومت نے فیصلہ کرنا ہے.
*کیونکہ حکومت نے یو این او کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ سزائے موت نہ دی جائے بلکہ اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔ ملازمین کو اگلے گریڈ میں ترقی کے لئے 10 سال بعد 70 ملازمین کو ہیڈ وارڈن کے عہدے پر ترقی دی ہے۔
روزنامہ آواز ٹائمز اسلام آباد






