عالمی خریداروں کو پاکستانی بندر گاہوں کے قریب تیل ذخیرہ کرنے کی اجازت مل گئی

اسلام آباد(روزنامہ آواز ٹائمز)عالمی خریداروں کو تیل پاکستانی بندگاہوں کے قریب ذخیرہ کرنے کی اجازت دے دی۔ عالمی خریدار تیل خرید کر پاکستان کی بندرگاہوں کے قریب ذخیرہ کرسکیں گے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پٹرولیم ڈویژن نے کسٹمز بانڈڈ پالیسی گائیڈ لائنز کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔نوٹیفیکیشن کے مطابق عالمی خریدار تیل خرید کر پاکستان کی بندرگاہوں کے قریب ذخیرہ کر سکیں گے۔بین الاقوامی کمپنیوں کو پاکستان میں ایک ذیلی کمپنی قائم کرنا ہو گی۔یہ کمپنیاں تیل ریفائنریوں اور تیل کمپنیوں کو فروخت کیا جائے گا۔تیل کمپنیاں پاکستانی روپے میں بھی ادائیگیاں کر سکیں گی۔تیل کی خرید وفروخت میں حکومت کو کوئی ضمانت نہیں دینا پڑے گی۔پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفیکیشن کے مطابق اسٹور کیا ہوا تیل اوگرا کی لائسنس یافتہ کمپنیوں کو فراہم کیا جا سکے گا۔پاکستانی بندرگاہوں میں اسٹور کیا ہوا تیل دوبارہ برآمد کیا جا سکے گا۔دوسری جانب پاکستان کے لئے نجی گندم کی امپورٹ کا عملی آغاز ہو گیا، روس کی بندرگاہ سے گندم سے لدا بحری جہاز پاکستان کیلیے روانہ ہو چکا ہے جو 8 ستمبر کو کراچی بندرگاہ کیماڑی پہنچے گا، دوسرا جہاز 14 ستمبر کو آئیگا، 8 ستمبر کو آنے والے بحری جہاز میں 55 ہزار ٹن گندم لدی ہوئی ہے۔امپورٹرز کے مطابق ابتک 4 لاکھ ٹن گندم خریدی جا چکی اور قوی امید ہے کہ نجی شعبہ 9 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم امپورٹ کریگا جس میں سے زیادہ گندم کراچی میں استعمال ہوگی جہاں فلورملز کو گندم دستیابی میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ قیمتوں میں بھی عدم استحکام موجود ہے، گندم سٹہ بازی میں ملوث فلورملز نے نجی امپورٹ کو سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی جو ناکام رہی، فلور ملز، ذخیرہ اندوزوں نے نگران وفاقی شخصیت کے قریبی دوستوں کے ذریعے اثر انداز ہونے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ نگران وفاقی حکومت نے عوام کے غذائی تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کیلئے ہر قسم کے دباؤ اور غلط مشوروں کو مسترد کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں