اسلام آباد میں پانی کی بڑی مقدار پرانی لائنوں کی وجہ سے ضائع ہو جاتی،لائنوں کی تبدیلی کیلئے پی سی ون تیار کر لیا ہے، طلال چوہدری

اسلام آباد (ڈیلی آوازٹائمز) قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں اسلام آباد میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت، پانی صاف کرنے اور اسے دوبارہ قابل استعمال بنانے کے پلانٹس کی تنصیب سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا گیا۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام آباد میں پانی کی کمی ہے، پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے واپڈا کے ذریعے فیزیبلٹی رپورٹس تیار کروائی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں پانی کی بڑی مقدار پرانی پائپ لائنوں کی وجہ سے زمین میں ضائع ہو جاتی ہے، پرانی پائپ لائنوں کی تبدیلی کے لیے پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے اور اس حوالے سے کام جاری ہے۔طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد میں پانی کا زیرِ زمین لیول مسلسل نیچے جا رہا ہے، پانی کے ضیاع کو روکنے اور دستیاب وسائل کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے ارکان سے اپیل کی کہ اسلام آباد کے شہری بھی پانی کے بل ادا کریں اور پانی کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔وزیر مملکت نے کہا کہ ایک کنال کے گھر سے پانی کے بل کی مد میں صرف 240 روپے وصول کیے جاتے ہیں، لیکن اس رقم میں سے بھی ریکوری 24 روپے سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں مفت پانی کی سہولت کے باعث بعض گھروں میں ٹونٹیاں کھلی رہتی ہیں اور پانی ضائع ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیم بنا رہی ہے اور پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم اس سلسلے میں اسلام آباد کے شہریوں کا تعاون بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری وعدہ کریں کہ وہ پانی کے بل ادا کریں گے اور پانی ضائع نہیں کریں گے۔اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی زہرا ودود فاطمی نے طلال چوہدری کی جانب سے اسلام آباد کی بعض آبادیوں اور وہاں رہنے والے افراد سے متعلق دیے گئے ریمارکس پر اعتراض کیا۔طلال چوہدری نے زہرا ودود فاطمی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جہاں ایم این اے صاحبہ رہتی ہیں وہاں 90 فیصد گھر غیر قانونی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں کسی کا سیوریج منظور شدہ نہیں ہے۔وزیر مملکت نے مزید کہا کہ یہ سارے پڑھے لکھے لوگ کہتے ہیں کہ ان کا گند بھی ہم اٹھائیں اور وہ بل بھی ادا نہ کریں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ آبادیاں اور گھر یہاں بنے ہی کیوں تھے، اس سوال کا بھی جواب دیا جائے۔زہرا ودود فاطمی نے طلال چوہدری کی بات کا جواب دینے کی کوشش کی، تاہم اجلاس میں صورتحال اس وقت مزید دلچسپ ہوگئی جب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے زہرا ودود فاطمی کو طلال چوہدری کے خلاف تحریکِ استحقاق لانے کا مشورہ دے دیا۔اجلاس کے دوران اسلام آباد میں پانی کے بحران، پانی کے ضیاع، پرانی پائپ لائنوں کی تبدیلی، زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی اور غیر قانونی آبادیوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے معاملات زیر بحث آئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں