افغان بھائیوں کی سخت سردی میں جبرا بے دخلی غیرانسانی عمل ہے،اے کیو ایم

کوئٹہ(آوازٹائمز)آل پاکستان مہاجر قومی موومنٹ (اے کیو ایم) نے کہا ہے کہ افغان بھائیوں کو سخت سردی کے موسم میں جبرا بے دخلی غیرانسانی فعل ہے۔ اپنے جاری کردہ پریس ریلیز میں جماعت نے انتباہ کیا کہ مہاجرین کو گرفتار کر کے ان کے مال و املاک سے بے دخلی کرانا انسانی وقار کے منافی عمل ہے اور اس سے تاریخ میں افغانوں کے ساتھ نفرت اور رنجش میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔اے کیو ایم نے نشاندہی کی کہ ماضی میں جب بین الاقوامی ادارے اور امدادی تنظیمیں افغان مہاجرین کے لیے مالی امداد کرتی رہیں تو انہیں مہاجر کیمپوں سے شہروں میں باعزت طریقے سے منتقل کیا گیا، مگر موجودہ حکومتی پالیسیاں اور ناقص انتظامات افغانوں کے حقوق کو پامال کر رہے ہیں۔ جماعت نے کہا کہ افغان مہاجرین ملکی معیشت کے لیے بوجھ نہیں بلکہ معیشت کی بحالی میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں، اس لیے زور زبردستی ان کو بارڈر سے واپس بھیجنا غیرانسانی اور غیرقانونی اقدام ہے۔اے کیو ایم نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک افغانستان میں مکمل امن و استحکام برقرار نہیں ہوتا، پاکستانی حدود میں مقیم افغان بھائیوں کو پرامن قیام کی اجازت دی جائے اور ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا ناروا سلوک بند کیا جائے۔ جماعت نے کہا کہ دربدر عورتوں اور بچوں کو تنگ کرنا، ان کی توہین اور بے یار و مددگار چھوڑ دینا بین الاقوامی انسانی اصولوں اور قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ریلیز میں موقف اختیار کیا گیا کہ جب سوویت یلغار کے دور میں افغان مجاہدین کو ہم نے سراہا تھا، تو آج بھی یہاں بسنے والے افغان کمیونٹیز نہ کسی انتہا پسندی میں ملوث ہیں اور نہ دہشت گردی کا حصہ ہیں بلکہ وہ خود خانہ جنگی اور خلفشار کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں