اوتھل (اوازٹائمز/انعام اللہ اچکزئی)اوتھل شہر سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پاکستان کوسٹ گارڈز کی چیک پوسٹ پر طویل چیکنگ کے باعث کراچی علاج کے لیے لے جائی جانے والی تقریبا چار سے پانچ سالہ کمسن بچی کوچ میں ہی دم توڑ گئی۔ذرائع کے مطابق خاندان کے پانچ سے چھ افراد بیمار بچوں سمیت کوئٹہکراچی روٹ پر چلنے والی مسافر کوچ میں سوار تھے، لیکن اوتھل کے قریب واقع چیک پوسٹ پر کوچ کو گھنٹوں روکا گیا۔ اس دوران بچی کی حالت بگڑ گئی اور وہ دم توڑ گئی۔ واقعے کے بعد مسافروں نے شدید احتجاج کیا اور کچھ دیر کے لیے کوئٹہکراچی شاہراہ بلاک کی، تاہم مقامی انتظامیہ کی مداخلت کے بعد سڑک کھول دی گئی۔دوسرے بیمار بچے کو فوری طور پر اوتھل میں نجی کلینک منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد کراچی ریفر کر دیا گیا۔ جاں بحق بچی کی نعش بھی ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کی گئی۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کمشنر قلات ڈویژن کو انکوائری کا حکم دیا اور ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔ وزیراعلی نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور غیر انسانی رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔پاکستان کوسٹ گارڈز نے اپنے موقف میں کہا کہ اہلکاروں نے بیمار بچوں اور اہلِ خانہ کو دوسری کوچ میں منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم چار خواتین کے لیے نشستیں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے وہ جانے سے انکار کر گئیں۔ جب چار نشستوں والی کوچ کا انتظام کیا گیا تو بچی جاں بحق ہو چکی تھی۔ کوسٹ گارڈ کے مطابق جاں بحق بچی ایک ریٹائرڈ ملازم کی بیٹی تھی۔واضح رہے کہ کوئٹہکراچی شاہراہ پر ضلع لسبیلہ اوتھل اور ضلع حب وندر میں دو چیک پوسٹیں قائم ہیں، جہاں رات تین بجے سے صبح کے اوقات تک کوچوں کو گھنٹوں روک کر چیک کیا جاتا ہے، جس سے مسافروں خصوصا بیمار، خواتین اور ضعیف العمر افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔






