کوئٹہ(این این آئی)سابق وزیر اعلی بلوچستان و نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاہے کہ بلوچستان میں حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے بلوچستان میں کسی کی جان و مال محفوظ نہیں، بدامنی میں روز بہ روز اضافہ ہورہاہے، صوبے کاوزیر اعلی کو عوام سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی عوام چیف سیکرٹری کے پاس اپنے مسائل کے حل کیلئے جاسکتے ہیں، بدقسمتی سے بلوچستان میں ایجوکیشن کے پوسٹوں پر میرٹ پر تعیناتی کے بجائے دس دس لاکھ روپے میں جی وی ٹی کی پوسٹیں بک رہی ہیں، نیشنل پارٹی نے دوران دو ڈھائی سالہ اقتدار میں بلوچستان میں امن قائم کیا اور بلوچستان کے شاہراہوں سے چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا، مگر موجودہ حکومت کی بیڈگورننس نے صوبے کو بدامنی کرپشن و لاقانونیت میں دھکیل دیا، حکمران چینی کے اسمگلنگ کے ساتھ منسلک ہوگئے، ملکی معیشت پر بوج اسٹیل مل،پی آئی اے، ریلوے جیسے ادارے جو سالانہ پندرہ سو ارب روپے نقصان دے رہے ہیں کی نجکاری ناگزیر ہیں، ناکارہ اداروں پر فنڈز ضائع کرنے کے بجائے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا چائیے، کارکن پارٹی کا اہم اور قیمتی اثاثہ ہیں، نیشنل پارٹی عام اور مڈل کلاس کی عوامی جماعت ہے الیکشن عوامی قوت کے ساتھ لڑینگے پارٹی کارکن الیکشن کی تیاری کریں۔






