حب (ڈیلی آواز ٹائمز/نیاز اللہ سمالانی) جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر ملک بھر کی طرح بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں بھی پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور علامتی دھرنا دیا گیا۔ احتجاج بھوانی بائی پاس، مین آر سی ڈی روڈ پر منعقد ہوا، جہاں جماعت اسلامی کے کارکنوں، نوجوانوں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔مظاہرین کے ہاتھوں میں جماعت اسلامی کے جھنڈے اور پلے کارڈز موجود تھے، جن پر “لیوی بھتہ ٹیکس ختم کرو”، “پیٹرول کی قیمت کم کرو”، “بلوچستان کو امن دو” اور “یہ صرف پیٹرول کی قیمت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہر مزدور، طالب علم، تاجر اور ہر خاندان کے مستقبل کا مسئلہ ہے” جیسے نعرے درج تھے۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ایک فرد یا ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے 25 کروڑ عوام کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ، مزدور، ڈرائیور، تاجر اور عام شہری مہنگائی اور پیٹرولیم لیوی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔مقررین نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت پیٹرول پر بھاری پیٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے، جس سے عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک مزدور محدود آمدنی میں ماہانہ موٹرسائیکل استعمال کرتا ہے تو صرف پیٹرول کی مد میں ہزاروں روپے اضافی ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے جماعت اسلامی ملک گیر تحریک چلا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ احتجاج صرف ایک علامتی آغاز ہے، جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت کرے گی۔رہنماؤں نے کہا کہ ماضی میں بھی جماعت اسلامی نے بجلی کے زائد بلوں اور آئی پی پیز کے خلاف مؤثر آواز اٹھائی، جس کے نتیجے میں حکومت کو بعض فیصلوں پر نظرثانی کرنا پڑی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی طرح پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک جماعت اسلامی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے آئینی اور بنیادی حقوق سے آگاہ ہوں اور ناجائز ٹیکسوں کے خلاف پرامن جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مسائل کے حل اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔






