راولپنڈی،نوعمر بچی سے جنسی زیادتی کے مقدمہ میں گرفتار ملزم 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر تھانہ صادق آباد پولیس کے حوالے

راولپنڈی (آوازٹائمز) جوڈیشل مجسٹریٹ عادل سرور سیال نے نوعمر بچی سے جنسی زیادتی کے مقدمہ میں گرفتار ملزم کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر تھانہ صادق آباد پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے گزشتہ روز پولیس نے عبد الوہاب نامی ملزم کو عدالت میں پیش کر کے موقف اختیار کیا کہ ملزم نے متاثرہ بچی سے زیادتی کا اعتراف کر لیا ہے ملزم کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے جسمانی ریمانڈ درکار ہے لہٰذا ملزم کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے تاہم عدالت نے 3 یوم کا ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ہدائیت کی کہ 23 جنوری کو ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کر کے تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے تھانہ صادق آباد پولیس نے 13 سالہ متاثرہ بچی کی رشتہ دار خاتون غلام فاطمہ کی مدعیت میں 13 جنوری کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 376iii کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ والد کی وفات اور والدہ کی دوسری شادی کے بعد 13 سالہ زنیرہ اس کے پاس رہتی تھی بچی کو اچھی تعلیم و تربیت کے لئے سنیلا زوجہ عدیل کے پاس چھوڑا جو اسے کام کاج کے بدلے 6 ہزار روپے ماہوار بھی دیتے تھے گزشتہ 5 سال کے دوران اس کا بچی سے رابطہ رہا لیکن پھر 5/6 ماہ سے انہوں نے بچی سے کوئی رابطہ نہ کرنے دیا جس پر گزشتہ ماہ 15 دسمبر کو بچی کو ساتھ لے گئی جس نے بتایا کہ وہاں اس کے ساتھ زیادتی ہوتی تھی اور وہ حاملہ ہے یاد رہے کہ اس مقدمہ میں عدیل نامی ملزم کو نامزد کیا گیا تھا تاہم متاثرہ بچی نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرائے گئے بیان میں کہا تھا کہ عدیل اس کا ملزم نہیں بلکہ عبد الوہاب ملزم ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں