کوئٹہ(آوازٹائمز)سابق سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ وہ اور ان کے ہمراہ نادیہ بلوچ و دیگر افرادہِدہ جیل میں ڈاکٹر مہرانگ بلوچ اور صفت اللہ شاہ سے ملاقات کے لیے پہنچے مگر انتظامیہ نے انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ مشتاق احمد نے الزام لگایا کہ ملاقات کے لیے چند روز قبل اپنے وکیل کے ذریعے باقاعدہ درخواستیں دی گئی تھیں مگر حکومتی رویے نے انہیں نظر انداز کیا، جو کہ جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے شدید منافی ہے۔سابق سینیٹر نے کہا کہ بی وائی سی قیادت کے خلاف بنائے گئے مقدمات کو اینٹی ٹیررازم قوانین کے تحت تبدیل کیا گیا ہے تاکہ سیاسی قیادت کو دہشت گرد قرار دیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قیدیوں کے ساتھ جیل میں جج کے سامنے ٹرائل کی بجائے جیل ٹرائل شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ شفاف عدالتی کارروائی اور قانونی تقاضے مکمل طور پر نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ مشتاق احمد نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی ناقابل قبول ہے اور حکومت کی غیر جمہوری پالیسیوں کا عکاس ہے۔انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ گرفتار رہنماں کو فوری اور شفاف ٹرائل فراہم کیا جائے، انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور سیاسی اختلافات کو جیل خانوں میں دبانے کی مہم کو ختم کیا جائے۔ مشتاق احمد نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے مسائل کی نمائندگی کریں اور حکومت ان کی آواز کو دبانے کی کوشش نہ کرے۔سابق سینیٹر نے مزید کہا کہ حکومت کا یہ رویہ عوام کے اعتماد کو کمزور کر رہا ہے اور بلوچستان میں موجودہ حالات میں مزید نفرت اور بے اطمینانی کو فروغ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق، جمہوری اقدار اور سیاسی آزادی کے تحفظ کے لیے بھرپور آواز بلند کرتے رہیں گے اور متاثرین کے حق میں ہر فورم پر آواز بلند کریں گے۔مشتاق احمد نے حکومت پر زور دیا کہ سیاسی کارکنان اور جمہوری جدوجہد کرنے والوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں فوری بند کی جائیں، اور بلوچستان میں انصاف، امن اور شفاف عدالتی نظام قائم کیا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ صحافیوں، کارکنان اور سیاسی نمائندگان بھی موجود تھے






