کوئٹہ(ڈیلی آوازٹائمز)سانحہ زیارت میں دہشت گرد حملے کے دوران شہید ہونے والے بلوچستان پولیس کے اہلکار اکبر شیرانی کی المناک داستان نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔ شہید اکبر شیرانی نہ صرف اپنے والدین کا سہارا اور سات بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے بلکہ ان کی شادی بھی محض ایک ہفتے بعد ہونا تھی، تاہم وہ وطن اور عوام کے تحفظ کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ہمیشہ کے لیے اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے۔اہلِ خانہ کے مطابق شہید اکبر شیرانی کی میت کو ابتدائی طور پر حکومت بلوچستان کی جانب سے زیارت سے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا، جہاں ضروری قانونی کارروائیاں مکمل کی گئیں۔ بعد ازاں شہید کی میت کو تابوت میں رکھ کر اہلِ خانہ اور اہلِ علاقہ احتجاجا کوئلہ پھاٹک لے آئے، جہاں سانح زیارت کے دیگر شہدا کے لواحقین اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دے رہے تھے۔لواحقین کا دعوی ہے کہ احتجاج ختم ہونے کے بعد جب وہ شہید کی میت کو آبائی علاقے زیارت منتقل کرنا چاہتے تھے تو حکومت بلوچستان یا محکمہ صحت کی جانب سے انہیں مزید کوئی سرکاری ایمبولینس فراہم نہیں کی گئی، نہ ہی متعلقہ حکام نے ان سے رابطہ کیا یا منتقلی کے لیے کسی قسم کی معاونت فراہم کی۔اہلِ خانہ کے مطابق سرکاری سہولت نہ ملنے پر انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اہلِ علاقہ سے چندہ جمع کیا اور تقریبا 30 ہزار روپے کرائے پر ایک گاڑی حاصل کرکے شہید اکبر شیرانی کی میت کو زیارت منتقل کیا، جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔شہید کے عزیز و اقارب نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو اہلکار وطن، عوام اور ریاست کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرتا ہے، اس کی آخری رسومات اور میت کی منتقلی کے لیے ریاست کی جانب سے مکمل تعاون فراہم کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول اگر ایک شہید پولیس اہلکار کے اہلِ خانہ کو بھی اس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو یہ نہایت افسوسناک صورتحال ہے۔اہلِ علاقہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر ان دعوں میں حقیقت پائی جاتی ہے تو معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ کسی بھی شہید کے خاندان کو ایسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دوسری جانب سانح زیارت کے شہدا کے لواحقین اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور حکومت سے انصاف، مثر کارروائی اور شہدا کے خاندانوں کے لیے فوری امدادی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں






