اسلام آباد (آوازٹائمز)سپریم کورٹ نے بیوی کے قتل کے مجرم اختر عباس کی بریت کی درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی مجرم کے وکیل پرنس ریحان اور جسٹس ہاشم کاکڑ کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔جسمیں جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ ملزم نے اپنی بیوی کو مارا ہو گا،آپ کے پاس سارے ایسے ہی کیسز آتے ہیں،۔ آپ کے خلاف تو خواتین کو احتجاج کرنا چاہیے،وکیل نے مسکراتے ہوئے جواب دیاکہ شوہر مظلوم ہوتے ہیں،جسٹس ہاشم کاکڑنے کہاکہ ہماری پشتو میں کہتے ہیں بیوی بدصورت ہو تو فائرنگ زیادہ کردو،جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت قہقہے گونج اٹھے۔وکیل مجرم اختر عباس نے موقف اختیارکیا کہ میری بیوی نے تنسیخ نکاح کا کیس کر رکھا ہے اور وہ میرے ساتھ نہیں رہتی، جسٹس ہاشم کاکڑ کا استفسارکیاکہ وقوعہ کب کا ہے،،وکیل مجرم۔نے بتایا کہ وقوعہ 2015 رات ایک بجے کا ہے۔ میڈیکل رپورٹ میں ایک زخم سینے پر آیا ہے،میری بیوی تنسیخ نکاح کے بعد اپنے والدین کے گھر رہتی تھی،میری بیوی کو اس کے سوتیلے والد نے مارا ہے،وقوعہ کے مطابق گواہان بیک سائیڈ پر تھے وہ کیسے پہنچان سکتے ہیں،،پراسیکیوٹرنے موقف اختیارکیا کہشادی آٹھ سال رہی اور اتنے عرصہ میں پہنچان ہوجاتی ہے،جسامت سے قد سے بھی۔،وکیل مجرم نے کہاکہ ٹرائل کورٹ نے سزائے موت دی جیسے ہائیکورٹ نے عمر قید میں تبدیل کیا۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا فیصلہ بعد میں سنایاجائیگا






