چھتر(آوازٹائمز)نصیرآباد میں زمینوں پر مبینہ قبضے اور ٹریکٹر چوری کے سنسنی خیز واقعے کو کئی روز گزرنے کے باوجود تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ پولیس کی خاموشی اور عدم کارروائی نے عوامی سطح پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔متاثرہ خاتون شبنم عمرانی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نامعلوم افراد نے ان کی ذاتی ملکیتی زرعی زمین پر زبردستی قبضہ کر کے ٹریکٹر چرا لیا، جس کی اطلاع فوری طور پر تھانہ نصیرآباد میں دی گئی اور تحریری درخواست بھی جمع کرائی گئی، لیکن پولیس نے آج تک کوئی کارروائی نہیں کی۔شبنم عمرانی نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کی کمائی زمین اور ٹریکٹر پر لگائی تھی، مگر سب کچھ چھن گیا۔ پولیس کو بارہا آگاہ کرنے اور تمام شواہد فراہم کرنے کے باوجود نہ زمین واپس ملی، نہ ہی ٹریکٹر برآمد ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انصاف نہ ملا تو وہ اپنے بچوں سمیت احتجاج پر مجبور ہوں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کی غفلت اور مبینہ چشم پوشی نے ان کے خاندان کو سخت ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ شبنم عمرانی نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نصیرآباد رینج، کمشنر نصیرآباد ڈویژن اور وزیراعلی بلوچستان سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں، ذمہ داروں کے خلاف انکوائری کا حکم دیں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔متاثرہ خاتون نے آخر میں کہا کہ میں صرف انصاف چاہتی ہوں، میری زمین واپس دلائی جائے، میرا ٹریکٹر برآمد کیا جائے اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ کسی اور کے ساتھ ایسا ظلم نہ ہو






