لاہور: مسلم لیگ( ن) کے رہنماء راناء ثناء اللہ نے کہا کہ نواز شریف ملکی مفاد کی خاطرعمران خان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قائد ن لیگ ماضی میں بھی بانی پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے آمادہ تھے اور انہوں نے اس کا ثبوت اپنے عمل سے دیا،نواز شریف نے عمران خان کو مذاکرات کی دعوت اس وقت بھی دی تھی جب ملک میں 126دن کا دھرنا جاری تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی عوامی پذیرائی زیرو ہے لیکن عام انتخابات میں انہیں مظلومیت اور مزاحمت کا ووٹ ملا ہے۔بانی پی ٹی آئی اس وقت نواز شریف کو برا بھلا کہہ رہے تھے لیکن انہوں نے پھر بھی بات چیت کیلئے عمران خان کی طرف ہاتھ بڑھایا تھانواز شریف نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ ملکی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں۔ نواز شریف کو مزاحمتی سیاست او ر بیانیے کی وجہ سے کافی نقصان اٹھانا پڑا جلا وطنی کاٹنی پڑی اور ان کے کاروبار تباہ ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ اتنے بڑے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ انہیں جیب سے قرآن نکال کر قسمیں نہیں اٹھانی چاہیے تھیں، تاہم ان کی بات یہ درست ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو لندن نہیں بجھوایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو علاج کی غرض سے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی کابینہ نے لندن بھجوایا تھا۔عمران خان نے اپنا ڈاکٹر بھیجوا کر تصدیق کی تھی کہ نواز شریف بیمار ہے یا نہیں اور اس کے بعد نواز شریف کی تمام میڈیکل رپورٹس بھی دیکھی گئیں تھیں۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کومکمل سپورٹ کر رہے ہیں اور شہباز شریف کو جب بھی کوئی مشورہ درکار ہوتا ہے تو نواز شریف ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔نواز شریف پارٹی کو سیاسی اورتنظیمی طور ازسر نو استوار کرنا چاہتے ہیں اور اس ضمن میں وہ منصوبہ سازی کر رہے ہیں اور جلد مشاورت کا عمل شروع کریں گے۔رانا ثناء اللہ کامزید کہنا تھا کہ نوازشریف کا دورہ چین مکمل طور پرنجی دورہ ہے وہ چین کمیونسٹ پارٹی کی دعوت پر گئے ہیںاسی لئے انہوں نے وہاں کوئی سرکاری مصروفیات نہیں رکھی ہیں۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ن لیگی رہنماء جاوید لطیف کی جانب سے رانا تنویر پر 90کروڑ دیکر نشستیں لینے کے الزام میں کوئی صداقت نہیں ہے۔رانا تنویر کبھی کسی کو 90روپے نہ دے ، 90کروڑ تو بہت بڑی رقم ہوتی ہے آخر اتنی بڑی رقم دینے کا کوئی ثبوت ہوگا ،کوئی بینک ٹرانزیکشن کی گئی ہو گی یا پھر کوئی ویڈیو ثبوت ہونا چاہئے۔جاوید لطیف کو ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔ہم کوشش کریں گے کہ جاوید لطیف کو قائل کرلیں یا پھر انہیں کہیں گے کہ اپنی بات کے ثبوت پیش کریں۔






