حب (ڈیلی آواز ٹائمز/نیاز اللہ سمالانی)جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمٰن نے بلدیہ ریسٹ ہاؤس حب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 14 اگست 1947ء کو اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا تھا اور اس وقت یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ملک میں اسلامی اصولوں پر مبنی فلاحی نظام، انصاف اور مساوات قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سابق ریاستوں، جن میں لسبیلہ، قلات، مکران اور خاران شامل ہیں، نے بھی اسی امید کے ساتھ پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے تقریباً 80 برس گزرنے کے باوجود عوام کو وہ نظامِ انصاف اور اسلامی فلاحی ریاست میسر نہیں آ سکی جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں موجودہ سیاسی و انتظامی نظام عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ بدامنی، بے روزگاری، کرپشن اور معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی ہدایت اور جماعت اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے فیصلے کے مطابق موجودہ نظام میں اصلاحات اور عوامی حقوق کے لیے پرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تشدد یا مسلح راستہ اختیار کرنے کے بجائے جمہوری اور آئینی جدوجہد کا حصہ بنیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرحدی راستوں کی بندش سے ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے، جبکہ مہنگائی اور معاشی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق ان مسائل کے خلاف جماعت اسلامی 7 اگست بروز جمعہ شام 4 بجے بلوچستان بھر میں احتجاج کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حب، گوادر، کوئٹہ، چمن، ژوب اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔مولانا ہدایت الرحمٰن نے خضدار میں بی بی اسماء کے والد کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اس واقعے کے خلاف اسمبلی سمیت ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی ہےگفتگو کے اختتام پر حب کے سینئر صحافی، روزنامہ انتخاب کے بیورو چیف عزیز لاسی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا، جبکہ مرحوم کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعا بھی کی گئی






