واشنگٹن (ڈیلی آوازٹائمز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل الیکشن اسسٹنس کمیشن (EAC) کے باقی ماندہ ارکان کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا، جس کے بعد وفاقی انتخابی نگرانی کے اس اہم ادارے کی فعالیت اور آئندہ انتخابی عمل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اپوزیشن نے فیصلے کو انتخابی نظام کے لیے خطرناک قرار دیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی الیکشن کمیشن کے باقی ماندہ ارکان بھی برطرف کر دیے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک بھر میں انتخابات کے انتظام میں معاونت کرنے والے آزاد وفاقی ادارے“الیکشن اسسٹنس کمیشن (Election Assistance Commission – EAC)”کے باقی ماندہ ارکان کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا ہے،یہ اقدام وسط مدتی (Midterm) انتخابات سے چند ماہ پہلے کیا گیا جس کا بطور صدر انھیں اختیار حاصل ہیچار رکنی دو جماعتی (بائی پارٹیزن) کمیشن کے تین باقی ارکان جمعرات کو مختلف طریقوں سے عہدوں سے الگ ہوئیتھے ایک ریپبلکن رکن نے استعفیٰ دیا تھا جبکہ دو ڈیموکریٹ ارکان کو وائٹ ہاؤس کے صدارتی پرسنل آفس کی جانب سے ای میل کے ذریعے برطرفی کا نوٹس بھیجا گیا۔ای میل میں میں تحریر تھا کہ“صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ الیکشن اسسٹنس کمیشن کے کمشنر کے طور پر آپ کی خدمات فوری طور پر ختم کی جاتی ہیں۔ آپ کی خدمات کا شکریہ۔”تاہم وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا الیکشن اسسٹنس کمیشن ایک وفاقی ادارہ ہے یہ ادارہ امریکی انتخابات کے انتظام سے متعلق معلومات اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ووٹنگ مشینوں کی جانچ کرنے والی لیبارٹریوں کی منظوری دیتا ہے اورووٹنگ سسٹمز کی تصدیق (Certification) کرتا ہے۔ 1993 کے نیشنل ووٹر رجسٹریشن ایکٹ کے تحت قومی میل اِن ووٹر رجسٹریشن فارم کی نگرانی کرتا ہے یاد رہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ میل اِن ووٹنگ (ڈاک کے ذریعے ووٹنگ) کے قوانین میں تبدیلی کی حمایت کر رہے ہیں۔ اور 2020 کے صدارتی انتخابات کی دوبارہ جانچ سے متعلق اقدامات کر رہے ہیں، جن انتخابات میں ٹرمپ کو جو بائیڈن کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ اس معاملہ پر ایریزونا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ ایڈریان فونٹس نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک اقدام ہے۔ اس سے ملک بھر کے انتخابی حکام میں افراتفری پھیلے گی اور غیر جانبدار انتخابی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔”یاد رہے کہ Help America Vote Act 2002 کے تحت صدر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کمیشن کے نئے ارکان نامزد کریں، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ اس کمیشن کو کس طرح آگے چلائیں گے یا نئے ارکان کب مقرر کیے جائیں گے






