کوئٹہ میں گرینڈ الائنس کی احتجاجی کارروائی، پولیس کی کریک ڈان اور متعدد رہنماں کی گرفتاریاں

کوئٹہ(آوازٹائمز)کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں گرینڈ الائنس کی جانب سے سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج اور ممکنہ پریس کانفرنس کے پیشِ نظر پولیس کی کریک ڈان دوسری روز بھی جاری رہی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں گرینڈ الائنس کے رہنماں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔پولیس نے بلوچستان گرینڈ الائنس کے صدر قدوس کاکڑ سمیت متعدد رہنماں کو حراست میں لیا، جبکہ گزشتہ روز بھی کئی رہنماں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کی بھاری نفری کوئٹہ پریس کلب اور اطراف کے علاقوں میں تعینات رہی تاکہ کسی بھی ممکنہ احتجاج یا پریس کانفرنس کو روکا جا سکے۔منان چوک پر سرکاری ملازمین اور پولیس کے درمیان کچھ دیر کے لیے کشیدگی دیکھی گئی۔ احتجاج میں خواتین ملازمین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی اور گرفتاریوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ پولیس کارروائی کے دوران سرکاری ملازمین کی جانب سے گرفتاریوں کے خلاف مزاحمت بھی دیکھنے میں آئی۔کوئٹہ پولیس کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ گرینڈ الائنس کے رہنماں نے پولیس کی کارروائی کو پرامن احتجاج کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔اس موقع پر منان چوک کوئٹہ پر آرگنائزر گرینڈ الائنس پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ، ڈاکٹر محمد اکرم وردگ، خادم بگٹی، حاجی یونس کاکڑ، قائم خان کاکڑ، رحمت اللہ زہری سمیت دیگر ممبران آرگنائزنگ و کور کمیٹی اور درجنوں ملازمین نے گرفتاریاں پیش کر کے جیل بھرو تحریک کا آغاز کر دیا۔گرینڈ الائنس بلوچستان کی کال پر اوستہ محمد میں تمام سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں اور اسپتال کو تالے لگا دیے گئے۔ گرینڈ الائنس کے رہنما محمد عثمان عمرانی، صادق علی جمالی اور عبدالمجید دیناری کی قیادت میں سینکڑوں کارکنان نے پریس کلب اوستہ محمد کے سامنے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج اور مظاہرہ کیا۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوستہ محمد سمیت ضلع بھر میں ملازمین کے جائز مطالبات کے تسلیم کرانے کے لیے لاک ڈان کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بلوچستان حکومت نے پرامن احتجاج کرنے پر ملازمین پر تشدد کیا اور ان کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کیا۔ مقررین نے کہا کہ ملازمین بلوچستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں لیکن ان کے جائز حقوق کی کوئی پرواہ نہیں کی جا رہی۔گرینڈ الائنس نے اعلان کیا کہ کل جمعرات سے بلوچستان بھر میں جیل بھرو تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ مقررین نے وزیر اعلی بلوچستان اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ ملازمین کے ڈی آر اے مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے اور مرکزی قائدین سمیت سینکڑوں کارکنان کو فوری رہا کیا جائے، بصورت دیگر لاک ڈان جاری رہے گا اور تمام سرکاری امور جام ہو جائیں گے۔ضلعی انتظامیہ نے مظاہروں کے دوران سیکیورٹی کے فل پروف اقدامات کیے گئے تھیگرینڈ الائنس مستونگ کے زیر اہتمام صوبائی قائدین کی گرفتاری، بلوچستان بھر میں ملازمین کے خلاف کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں اور مطالبات کی عدم منظوری کے خلاف سراوان پریس کلب مستونگ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج میں گرینڈ الائنس میں شامل مختلف تنظیموں کے ملازمین نے شرکت کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں