ہمیں پاکستان کے مفاد کیلئے مل کر اکٹھے ہوکر کام کرنا ہے ، وزیراعظم

کراچی: و زیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سرمایہ کار پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ،تاجر برادری کے ساتھ دوستانہ گفتگو ہوئی ہے ،تاجر برادری سے مل کر بہت خوشی ہوئی ،مشکلات کو چیلنج سمجھ کر ان کا مقابلہ کرینگے ،ہمیں پاکستان کے مفاد کیلئے مل کر اکٹھے ہوکر کام کرنا ہے ،ہم ایک ایسا معاشرہ بنائینگے جس کا خواب قائداعظم اور علامہ اقبال نے دیکھا تھا ،مزار قائد پر حاضری سے اس ویژن کو تقویت ملتی ہے ،یقین دہانی کراتا ہوں جو بھی نجکاری ہوگی شفاف انداز میں ہوگی،سندھ میں پیپلز پارٹی اور وفاق میں اتحادی حکومت ہے ،بلوچستان میں اتحادی اور خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سپورٹ حکومت ہے ،ہمیں اس سے غرض نہیں کس کی حکومت ہے مفادات سے بالاتر ہوکر پاکستان کیلئے کام کرنا ہے ،کاروباری افراد سے مشاورت کے بعد ایسی پالیسی تشکیل دینگے جس سے معیشت کو استحکام ملے ترقی ہوصنعت کو فروغ ملے ،چار سے پانچ شعبوں کے فروغ کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا، ہمیں انڈسٹریل زونز میں برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا ۔ کراچی میں کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جن ممالک کو ہم نے بوجھ سمجھ کر اپنے کاندھے سے اتار دیا تھا، آج ہم ان کو دیکھ کر شرمسار ہوتے ہیں، ہمیں اپنی برآمدی صنعت کو مضبوط اور اگلے 5سال میں برآمدات کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے۔ تاجر برادری سے ملاقات کر کے خوشی ہوئی کیونکہ آپ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کے بعد نئی حکومت آئی ہے، سندھ پیپلز پارٹی ہے، وفاق اور بلوچستان میں اتحادی حکومت ہے، پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حمایت یافتہ حکومت ہے، ہمیں اس سے غرض نہیں کہ کس کی حکومت کہاں ہے، ہمیں اس سے غرض ہونی چاہیے کہ ہمیں اپنی ذاتی پسند ناپسند سے بالاتر ہو کر ہم اکٹھے ہو جائیں، اپنی توانائیاں اکٹھی کریں اور اپنے قابل اذہان کو اکٹھا کر کے سمجھیں کہ مسائل کیا ہیں اور انہیں کیسے حل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں آپ سے بطور وزیراعظم نہیں بلکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر بات کررہا ہوں تاکہ میں آپ کے مشوروں سے اچھی پالیسیاں بنا سکیں اور پاکستان کے لیے دن رات محنت کریں، ہمیں ضرورت ہے کہ برآمدی صنعت کو مضبوط کریں اور تہیہ کریں کہ اگلے 5سال میں برآمدات کو دگنا کریں گے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کریں، زراعت میں انقلاب لے کر آئیں اور اپنے مثبت پہلوؤں کو استعمال کرتے ہوئے اس ملک کو اقوام عالم میں اس کا جائز مقام دلائیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے، عصر حاضر کی تاریخ میں بہت مثالیں موجود ہیں، آپ دنیا میں پاکستان کے سفیر ہیں اور ہمیں آج آپ کی ضرورت ہے، ہم چاہتے ہیں ہماری حقیقی صنعتی اور زرعی ترقی ہو، پاکستان کے اندر ہمارے برآمدات دوگنی ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ جن ممالک کو ہم نے بوجھ سمجھ کر اپنے کاندھے سے اتار دیا تھا، آج دیکھیں وہ بوجھ کہاں کہاں چلا گیا اور ہم ان کو دیکھ کر شرمسار ہوتے ہیں، یہ عظیم ملک بہت قربانیوں سے بنا ہے اور اب تہیہ کریں کہ پاکستان کو بنانا ہے تو آپ کی بصیرت اور اجتماعی محنت سے یہ ضرور بنے گا۔شہباز شریف کا کہنا تھا آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں مزید ممالک کے وفود پاکستان آئینگے صوبے اور وفاق مل کر کام کریں گے تو سرمایہ کاری آئے گی، جمہوری ترقی کی گاڑی آگے بڑھے اس کیلئے ناپسند فیصلے بھی کرنے پڑیں گے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں بزنس کمیونٹی کی ضرورت ہے آپ لوگ آگئے آئیں، تہیہ کرلیں کہ پانچ برس میں ایکسپورٹ کو دگنا کرنا ہے، پاکستانی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا اسے آگے لانا ہے، اسمگلنگ کے خاتمے پر زور دے رہے ہیں اس کی وجہ سے ریونیو کم ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ کچھ اداروں کی نجکاری کی جارہی ہے یقین دلاتا ہوں نجکاری شفاف ہوگی، حکومت کا کام انڈسٹری چلانا نہیں پالیسی بنانا ہے انڈسٹری چلانا تاجروں کا کام ہے جس کے لیے تاجروں کے جائز مطالبات پورے کریں گے، تاجروں کی توجہ ایکسپورٹ بڑھانے پر ہونی چاہیے تاجر برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، تاجروں کے مشورے سے اچھی پالیسیاں بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس سے غرض نہیں کہ کسی صوبے میں کسی کی حکومت ہے ہمیں ذاتی پسند سے بالاتر ہوکر اکٹھا ہوکر چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا، ہم کسی پر الزام تراشی نہیں کرسکتے ہمیں اپنی گریبان میں جھانکنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں